خواتین پر تشدد اور حملوں میں تیزی آئی ہے اس لئے خواتین کی بڑی تعداد پریشانی اور تذبذب کا شکار ہے کہ اس صورتحال میں کیا کیا جائے۔آج کی پاکستان ڈائری میں ہم بات کریں گے سیلف ڈیفنس کی جوکہ بہت اہم ہے۔خواتین اس کے لئے ٹرینگ بھی لے سکتی ہیں جس کوفزیکل سیلف ڈیفنس پروگرام کہتے ہیں۔اس میں خواتین کو کراٹے فائٹ اور ایسے طریقے سیکھائے جاتے ہیں جس سے وہ اغوا ریپ یا ہراساں کرنے کی صورت میں اپنا دفاع کرسکیں۔اکثر روڈز پر خواتین کے پرس چھینتے وقت انہیں گرا کر زخمی کردیا جاتا ہے ۔ تاہم اگر خاتون نے سیلف ڈیفنس کورس کیا ہو تو وہ تیکنیک کے زریعے چور کو سبق سکھا سکتی ہے۔خواتین اکثرپبلک مقامات بازاروں میں ہراسانی اور راہزانی کا شکار ہوجاتی ہیں۔سب سے پہلے چوکنا رہیں محفوظ جگہ کا انتخاب کریں۔میں آپ کو مختلف تجاویز دو گی کیونکہ ہم سب سیلف ڈیفنس میں مکے نہیں برسا سکتے۔تو ہم ذہانت اور ٹیکنالوجی کے زریعے سے بھی جرائم کی روک تھام کرسکتے ہیں۔
پولیس کو کال کریں
کسی بھی ناگہانی صورتحال میں سب سے پہلے پولیس کو کال کریں انکو مدد کے لئے بلائیں۔اگر فون نہیں کرسکتے تو اردگرد لوگوں کو آواز دیں مدد کے لئے پکاریں۔
انٹرنیٹ پر مدد کی اپیل کریں
کسی ایسی صورتحال میں جب آپ بول نا پائیں یا کال نا کرپائیں تو سوشل میڈیا پر لائیو کرکے صورتحال اپنے قریبی افراد کو بتائی جاسکتی ہے۔
گوکل لائیو لوکیشن
آپ اکیلے سفر کررہی ہوں تو فون چارج کرکے لے کر جائیں اپنی لائیو لوکیشن اپنے گھر والوں کے ساتھ شئیر کردیں۔ یوں وہ آپ کے روٹ پر نظر رکھ سکیں گے چاہیے آپ پیدل جائیں یا ٹیکسی میں ہوں یا اپنی گاڑی میں ہوں اپنی لائیو لوکیشن ضرور اپنے گھر والو یا دوستو سے شئیر کریں۔
پبلک کے لئے لوکیشن چیک ان مت کریں
فیس بک ٹوہٹر اور انسٹاگرام چیک ان کا آپشن دیتی ہے اس سے سماجی رابطے کی ویب پر یہ لکھا جاسکتا ہے کہ آپ اس وقت کہاں پر موجود ہیں تو خواتین کو چیک ان نہیں کرنا چاہیے اور خاص طور پر وہ خواتین جوکہ بہت زیادہ مشہور ہیں انکو اپنے چیک ان پبلک کے ساتھ شئیر نہیں کرے چاہیں۔کوئی بھی شخص یا فین آپ کی پرائیویسی میں مخل ہوسکتا ہے یا آپ کونقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
اپنی تصاویر پر واٹر مارک لگائیں اور سوشل میڈیا پرائویسی دوستوں تک محدود
سوشل میڈیا پر اپنی نجی تصاویر مت شئیر کریں اگر کرنا ہو تو واٹر مارک لگائیں یا پبلک کے لئے اوپن مت کریں۔بہت سی خواتین تصاویر کی وجہ سے بلیک میل ہوتی ہیں اس لئے خواتین کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی تصاویر کی حفاظت کریں ۔ کسی کو بھی اپنی نجی تصاویر اور ویڈیوز نہیں بھیجیں۔
پیپر اسپرے
یہ بازار سے بھی مل جاتا ہے اور خود بھی بنایا جاسکتا ہے۔اگر کوئی حملہ ہونے لگے تو مجرم کی آنکھوں پر سپرے کردیں اور خود وہاں سے فوری طور پر چلے جائیں۔ہم مرچوں والا اسپرے گھر میں بھی تیار کرسکتے ہیں۔گھر میں کالی مرچ سرخ مرچ پانی میں ڈال کر اس ملحول کو ابالیں اور کسی پرانی باڈی اسپرے کی بوتل میں ڈال دیں۔باہر جاتے ہوئے یہ بوتل اپنے پرس میں رکھیں۔
پیپر کٹر
ضرورت کے وقت اپنا بچاو کرنے کے لئے یپپر کٹر بھی یوز کیا جاسکتا ہے اتنے میں شورکرکے آپ اپنی مدد کے لئے لوگوں کو بلاسکتے ہیں۔سکول کالج دفاتر ہر جگہ یہ موجود ہوتا ہے تاہم اسکو بہت اشد ضرورت میں دفاع کے لئے استعمال کیا جائے۔
اسٹن گن یا ٹیزر
یہ بھی خواتین اپنے دفاع میں یوز کرسکتی ہیں اس سے کرنٹ نکلتا ہے اور آپ مجرم کو خود سے دور کرسکتے ہیں۔یہ آن لائن سٹور سے خریدا جاسکتا ہے۔یہ خواتین کو ریپ اور ہراسانی سے بچاسکتا ہے۔اس سے رہزانی کو بھی روکا جاسکتا ہے۔
سیلف ڈیفنس کی چین
اس میں تیار چار چیزیں لگی ہوتی ہیں جن میں سیٹی ، چھری ، تیز دھار انگوٹھی اور الارم لگا ہوتا ہے اسکو بھی آن لائن سٹور سے آڈر کیا جاسکتا ہے۔ضرورت پڑنے پر اپنی حفاظت کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ڈاگز
کتے کو ساتھ رکھنے سے بھی خواتین محفوظ رہ سکتی ہیں عام طور پر لوگ کتے سے ڈرتے ہیں۔اپنے بچے بچیوں کو کتے بطور پالتو جانور پالنے دیں ۔یہ بہت وفادار جانور ہے کسی اجنبی کو آپ کے قریب نہیں آنے دے گا۔واک کرتے وقت اسکو ضرور ساتھ رکھیں۔
اسلحہ
لائنسس کے بعد اسلحہ بھی خواتین اپنی حفاظت کے لیے رکھ سکتی ہیں لیکن یہ کسی نہتے انسان یا غلط فہمی کی بنا پر استعمال نہیں کرنا کیونکہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔
سیلف ڈیفنس کی ٹرینگ
خود کو فزیکلی فٹ کریں اور ٹرینگ میں حصہ لیں کہ آپ خود کو محفوظ رکھنے کے لئے مختلف طریقے سیکھیں۔ورزش کریں واک کریں اور خود کو جسمانی طور پر مضبوط بنائیں۔
اسلام آباد میں حال ہی میں جینڈر پروٹیکشن یونٹ بنایا گیا ہے کسی بھی حادثے کی صورت میں ان سے بھی مدد لی جاسکتی ہے اس سینٹر میں پولیس وکیل ڈاکٹرز ایک چھت تلے خواتین کی مدد کے لئے موجود ہیں۔چپ مت رہیں اپنے حق کے لئے آواز بلند کریں۔
