English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نور مقدم قتل کیس میں پولیس نے عبوری چالان عدالت میں پیش کردیا

اسلام آباد پولیس نے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں 9 ستمبر کو نور مقدم کیس کا عبوری چالان پیش کیا تھا جس کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ کیس میں نامزد ملزم ظاہر جعفر کے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے اعترافی بیان کو بھی چالان کا حصہ بنایا گیا ہے۔

عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے کا اعترافی بیان دیا ہے، ڈی این اے رپورٹ سے زیادتی بھی ثابت ہوئی ہے، ملزم نے نور مقدم کو قتل کر کے سر دھڑ سے الگ کرنے کا بیان دیا، ملزم نے انکشاف کیا کہ نور مقدم نے شادی سے انکار کیا تو اسے زبردستی کمرے میں بند کردیا،

چالان کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کر کے اس کا موبائل دوسرے کمرے میں چھپا دیا، نور مقدم کا موبائل ملزم کی نشاندہی پر اسی کے گھر کی الماری سے برآمد کیا، ملزم نے والد کو قتل کی اطلاع دی تو والد نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں، اپنے بندے آ رہے ہیں جو لاش ٹھکانے لگا دیں گے۔

چالان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ذاکر جعفر بروقت پولیس کو اطلاع دیتے تو نور مقدم کا قتل بچ سکتا تھا، ملزم کے والد نے وقوعہ میں  بیٹے کی مدد کی ہے۔

عبوری چالان کے مطابق ملزم نے کہا کہ تھراپی ورکس کے امجد محمود کے ساتھ غلط فہمی میں جھگڑا ہوا، تھراپی ورکس ملازمین نے شہادت ضائع کرنے کی کوشش کی، تھراپی ورک کے زخمی ملازم نے وقوعہ کا اندراج بھی نہیں کرایا، میڈیکل سلپ میں روڈ ایکسیڈنٹ درج کرایا۔

چالان کے مطابق ڈی وی آر میں محفوظ شدہ تصاویر اور فنگر پرنٹس بھی ملزم کے ہی ہیں، نور مقدم واش روم سے چھلانگ لگا کر بھاگتی ہوئی گیٹ پر آئی تو چوکیدار نے سہولت نہیں دی، مالی نے بھی نور مقدم کے لیے گیٹ نہیں کھولنے دیا، ملزم نے 19 جولائی کو امریکا کی فلائٹ بک کرا رکھی تھی لیکن سفر نہیں کیا، کیس میں 12 ملزمان کے خلاف شہادت و ثبوت ہیں ان کی حد تک چالان جمع کرایا گیا۔

خیال رہے کہ 20 جولائی کو سابق سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو ان کے دوست ظاہر جعفر نے اپنے ہی گھر میں تشدد کر بعد قتل کر دیا تھا۔ نور مقدم قتل کیس میں ظاہر جعفر مرکزی ملزم ہیں جبکہ ان کے والدین بھی زیر حراسر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے