کیوبا پہلا ملک ہے جس نے بچوں کی کورونا ویکسین مہم شروع کر دی ہے۔
وزیر صحت جوس پورٹال میرانڈا نے کہا ہے کہ بچوں میں وائرس کے کیسز میں اضافہ تشویشناک ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں بچوں میں کورونا کیسوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے حکام رواں ہفتے بلمشافہ تعلیمی سلسلے کے آغاز کے بعد دوبارہ سے اسکولوں کو بند کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
نائب وزیر تعلیم ایگینیو گونزالیز نے کہا تھا کہ بچوں کے اسکول کا باقاعدہ آغاز کرنے کے لئے والدین انہیں ویکسین لگوانے پر مجبور نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے عوام سے ویکسین لگوانے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ جو ویکسین لگائی جا رہی ہے وہ 100 فیصد کیوبا کی تیار کردہ ویکسین ہے۔
یاد رہے کہ کیوبا نے سوبیرانا۔2 اور آبدالا کے نام سے دو مختلف کووِڈ۔19 ویکسین تیار کی ہیں۔
ملک میں 2 سے 18 سالہ شہریوں کو سوبیرانا۔2 اور بالغ شہریوں کو آبدالا ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
ان ویکسینوں کو تاحال بین الاقوامی اداروں کی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔
کیوبا آبادی کے 90 فیصد کو ویکسین لگانے کی کوشش میں مصروف ہے اور ملکی اعداد و شمار کے مطابق کم از کم ایک لاکھ 17 ہزار 500 بچوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
