امریکہ، برطانیہ اور آسڑیلیا کے مابین طے پانے والے نئے سیکیورٹی پیکٹ کو چین۔ امریکہ کشیدگی میں ایک نئے مرحلے کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔
سامعین سیتا خارجہ پالیسی تحقیق دان ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا اس موضوع پر جائزہ ۔۔۔۔
نیا سیکیورٹی پیکٹ AUKUS ہر چیز سے قبل عالمی طاقت کی رقابت کے سلسلے میں عسکری محاذ کو کس طریقے سے شکل دینے سے متعلق اہم اشارے دیتا ہے۔ فوجی محاذ فطری طور پر جنگ کی محض ایک کڑی کو تشکیل دیتا ہے۔ اقتصادی محاذ پر مصالحت قائم کرنے کی جستجو زیر بحث ہو تو بھی فوجی محاذ پر کوئی بھی فریق عوامل کوخود ساختہ پیش رفت پر نہیں چھوڑنا چاہتا۔ کیا یہ بیجنگ ڈھارس ہے یا پھر مخالف توازن قائم کرنے کی کوشش ہے ابھی سے اس پر قطعی تبصرہ مشکل دکھائی دیتا ہے تو بھی یہ کہنا ممکن ہے کہ ان دونوں طریقہ کار کو عملی جامہ پہنایا جائیگا۔ کیونکہ یہ مفاہمت چین کی بلندی کی جانب مائل حکمتِ عملی کی ریڑھ کی ہڈی کو تشکیل دیتی ہے۔ جو کہ خوفزدہ کیے بغیر بلا کسی جھڑپ کے اپنی سطح کو بلند کرنے پر مبنی ہے۔ چین کا AUKUS کے برخلاف رد عمل توقع کے مطابق ثابت ہو اہے اور اس نے اس چیز کو ’’غیر ذمہ دارانہ ‘‘ حرکت سے تعبیر کیا ہے۔
آسڑیلیا کا جوہری اسلحہ کی حامل آبدوز سے بغلگیر ہونا چین کے لیے چند عوامل کے اعتبار سے اہم اور خطرہ تشکیل دیتا ہے۔ پہلا عمل امریکی اور برطانوی خفیہ سروس اور فوجی طاقت کو انڈین۔ پیسیفک علاقے کو منتقل کرتے ہوئے چین کی حرکات و سکنات کو محدود کرنا ۔ دوسرا پہلو آسڑیلیا کے حملہ آور دفاعی استعداد کو بڑھاتے ہوئے چین کے برخلاف توازن کو مضبوطی دلانا اور اس کی بحرِ اوقیانوس کی سطح پر فوجی طاقت میں اضافے کے عمل میں سستی لانا ۔ تیسرا پہلو سٹریٹیجک سطح پر باز رکھنے کی طاقت کو AUKUS کی بدولت چین کے بر خلاف چاق و چوبند رکھتے ہوئے چین کی حملہ آور حکمت عملی کی تشکیل میں رکاوٹ پیدا کرنا جبکہ چوتھا پہلو آسڑیلیا کے جوہری طاقت کی ماہیت اختیار کرنے کا احتمال ہے۔ یہ عوامل واضح طور پر چین کو محدود کرتے ہوئے اس کا محاصرہ کرنے اور جاپان اور جنوبی کوریا جیسے علاقائی اداکاروں کے وجود کے ہمراہ اس کو بالائے طاق رکھنے سے انہیں وسیع پیمانے کی توازن حکمت ِ عملی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کشیدگی کے ماحول میں مسئلہ تائیوان بھی کہیں زیادہ کلیدی سطح تک پہنچ چکا ہے ، جو کہ چین اور AUKUS کو فوجی میدان میں آمنے سامنے کھڑا کر سکتا ہے۔
اس نوعیت کی حکمت عملی کے برخلاف چین کے پاس متعدد متبادل موجود ہیں، ان میں سے اہم ترین اس تشکیل کے برخلاف سخت گیر اسلحہ سازی کی پالیسیوں کو اپنانا ، شمالی کوریا جیسے نظام سے باہر اداکاروں کے بل بوتے مخالف اسلحہ اندوزی حربے پر عمل کرنا اور دور دراز کے علاقوں میں امریکی خلا کو پُر کرنے کے لیے بیرونی اتحاد قائم کرنے کی کوششوں میں تیزی لانا شامل ہیں۔ AUKUS طے پانے کے فوراً بعد ایران کو شنگھائی تعاون تنظیم میں مستقل رکنیت دیے جانے کا اعلان آیا کہ محض ایک اتفاق تھا کچھ کہا نہیں جا سکتا تا ہم یہ بات قطعی ہے کہ واشنگٹن کے لیے دردِ سر ہونے والے تہران کو اس پیش رفت نے سکھ کا سانس ضرور دلایا ہے۔
ایک دوسرا زیادہ اہم متبادل میثاق کے کمزور ترین کڑے کو ہدف کی ماہیت دینا ہے؛ جو کہ آسڑیلیا ہے۔ دراصل چین نے اس پیش رفت کے بعد غیر رسمی طریقے سے آسڑیلیا کو ’’اپنے اقدام پر غور کرنے‘‘ کا پیغام دیا ہے۔ حکومتِ چین کے بین الاقوامی امور کے بارے میں اپنے نظریات پر مبنی گلوبل ٹائمز کے سر مقالے میں آسڑیلیا کے چین کے برخلاف امریکی قیادت کی حکمتِ عملی میں خاصکر فوجی اعتبار سے حملہ آور پوزیشن سنبھالنے کی صورت میں اس پیش رفت کے سامنے چین کے خاموش تماشائی نہ بننے کا واضح طور پر اظہار کیا گیا ہے۔
اس مقالے کے سنسنی خیز حصے میں ایک اہم سوال اٹھایا گیا ہے؛ عالمی سطح کی افراتفری کے برخلاف کس کی قوت برداشت زیادہ ہو گی؟ چین کی یا پھر اس کے مد مقابل اتحادیوں کی؟ یہ بات واضح ہے کہ امریکہ ۔ چین تناؤ عالمی نظام میں طاقت کی دوڑ کو ایک نئی سطح تک لیجائے گا۔ عالمی نظام میں تبدیلیاں آرہی ہیں اور طاقت کی منتقلی کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ اصل اہم سوال یہ ہے: کیا یہ منتقلی جنگ کے ساتھ یا پھر بلا جنگ عمل میں آئیگی؟ ہمارا ماضی خونی مثالوں سے بھری پڑی ہے!
