English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تجزیہ 05

القمر

ترکی۔ روس تعلقات  شام اور لیبیا  جیسے اہم  جیو پولیٹیک  معاملات کا امتحان  جاری ہونے والے ایک دور میں صدر رجب طیب ایردوان اور صدر ولا دیمت پوتن سوچی میں یکجا ہوئے۔  یہ ملاقات  اپنے وقت کے  لحاظ سے کافی اہم تھی تو  سربراہان کے تمام تر مسائل کے باوجود ایک مثبت ایجنڈے کو تشکیل دینے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔  خاصکر صدر ایردوان کے امریکی صدر جو بائڈن  کے برخلاف سخت گیر بیانات کے بعد سوچی سربراہی اجلاس  کے اہم نتائج بھی سامنےآ سکتے ہیں۔

سیتا خارجہ پالیسی امور کے محقق جان اجون کا مندرجہ بالا  موضوع پر جائزہ ۔ ۔۔

ترکی۔روس تعلقات کا متعدد اہم جیو پولیٹک معاملات پر امتحان لیا جا رہا  ہے۔ لیبیا  میں روس کی بھی حمایت حاصل ہونے والی عقیلہ صالح کی قیادت کی ایوان نمائندگان  نے حکومت  پر اعتماد کے ووٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے تو  ترکی  کی کریمیا پالیسی اور روس کے ترکی کی جانب سے پولینڈ اور یوکیرین  کوٹی بی ٹو  مسلح ڈراؤنز  فروخت کرنے پر خدشات دونوں ممالک کے مابین گاہے بگاہے تناؤ پیدا ہونے کا موجب بنے ہیں۔ تا ہم ہمیشہ کی طرح دونوں ممالک کے  مابین شام  کا  معاملہ اپنی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔  خاصکر گزشتہ چند ہفتوں سے  روس  کی جانب سے ادلیب   پر باقاعدہ حملے حتی ترکی کی جانب سے تربیت کرتے ہوئے اسلحہ سے لیس کی گئی قومی فوج  سے منسلک عناصر  کو عفرین میں براہ راست ہدف بنایا  جانا سنگین سطح  کی کشیدگی کا موجب بنا تھا۔ ترکی نے  اس  نئی عسکری حرکات کو  کو کسی ممکنہ فوجی کاروائی کی تیاری کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے  میدان ِ جنگ میں اپنی  فوجی طاقت میں اضافہ کیا۔ بعد ازاں وزیر دفاع خلوصی آقار نے  بعض بیانات جاری کرتے ہوئے اپنے خدشات کو بلا تردد زیر ِ لب لایا۔  روس کی جانب سے اس سے قبل  سوچی معاہدہ کے ما تحت  PKK کے شام میں بازو  کو ترکی کی سرحدوں سے 32 کلو میٹر   پیچھے  دھکیلنا مقصود تھا تو  اس وعدے  کو پورا نہ کیا جانا بھی ایک مسئلے کو تشکیل دیتا ہے۔

ان حالات میں  دونوں سربراہان کے درمیان  یہ ملاقات ترکی۔ روس  باہمی تعلقات کے اعتبار سے اہمیت کی حامل تھی۔  خاصکر  صدر ایردوان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کی غرض سے دورہ امریکہ کے دوران    بائڈن پر تنقید کرتے ہوئے  اور ترکی۔ روس  کے تعلقات  پر مثبت بیانات  سوچی کے سربراہی اجلاس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ سربراہی اجلاس میں دونوں سربراہان   کی جانب سے شام ، لیبیا اور افغانستان  جیسے اہم عنوانات سمیت  انرجی۔ جیو پولیٹک اور دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو  بھی زیر غور لایا گیا ہے۔  رائے عامہ کے سامنے آشکار نہ کیے جانے والے اہم معاملات  پر بھی غور کیے جانے کا  کہنا ممکن ہے۔ ان کے نتائج کے بارے  میں آئندہ کے ایام میں دونوں ممالک کی کاروائیوں کا طرز   بعض  اشارے دے گا۔  تا ہم  ایردوان  اور پوتن کا ادلیب سمیت کسی بھی معاملے کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات  میں زہر گھولنے کی اجازت نہ دینے   اور مثبت ایجنڈے کا تحفظ کرنے کا کہنا ممکن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے