English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شمالی کوریا کا میزائل تجربات پر عالمی تنقید کے بعد سلامتی کونسل کے خلاف الزام

شمالی کوریا نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر رکن ریاستوں کے درمیان عسکری سرگرمیوں پر دوہرا معیار برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے ادارے ’کے سی این اے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے اتوار کو کہا کہ سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کی رکن ریاستوں کے درمیان عسکری سرگرمیوں پر دوہرا معیار اپناتا ہے۔

شمالی کوریا کا یہ ردِ عمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسے حالیہ میزائل تجربات پر عالمی تنقید کا سامنا ہے۔

شمالی کوریا کے میزائل تجربوں پر امریکہ اور دیگر ممالک کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعے کو بند کمرہ اجلاس بھی منعقد کیا تھا۔

یہ اجلاس شمالی کوریا کے تیار کردہ نئے اینٹی ایئرکرافٹ میزائل کے تجربے کے ایک روز بعد منعقد کیا گیا تھا۔ اس سے قبل شمالی کوریا نے حالیہ دنوں میں ہائپرسونک میزائل، بیلسٹک میزائل اور کروز میزائل کے بھی تجربات کیے تھے۔

شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے محکمۂ بین الاقوامی تنظیمات کے ڈائریکٹر جو شول سو کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس کا مطلب اس کی خود مختاری کو ‘کھلے عام مسترد کرنا اور اس سے تجاوز’ کرنا ہے۔ اور یہ ‘سنگین ناقابلِ برداشت اشتعال انگیزی’ ہے۔


سیاح جنوبی اور شمالی کوریا کے سرحدی گاؤں پر بنے ایک بڑے نقشے کے قریب سے گزر رہے ہیں جس میں دونوں ملکوں کے دارا لحکومتوں کو دکھایا گیا ہے۔

سیاح جنوبی اور شمالی کوریا کے سرحدی گاؤں پر بنے ایک بڑے نقشے کے قریب سے گزر رہے ہیں جس میں دونوں ملکوں کے دارا لحکومتوں کو دکھایا گیا ہے۔

’کے سی این اے‘ نیوز ایجنسی کے جاری کردہ بیان میں جو کا کہنا تھا کہ یہ اقوامِ متحدہ کی سرگرمیوں کی غیرجانب داری، معروضیت، توازن، لائف لائنز کی تردید ہے اور یہ دوہرے معیار کا واضح مظہر ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کونسل نے اگر دوہرے معیار سے نمٹنے کے طریقے سے شمالی کوریا کی سالمیت کی خلاف ورزی جاری رکھی اور امریکی طرز پر سوچنے اور فیصلے کرنے کے طریقے پر انحصار کیا تو اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شمالی کوریا میں نیا شہر آباد





please wait



No media source currently available

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے حالیہ ہفتوں میں کہا ہے کہ ہتھیاروں کے تجربات کا مقصد اس کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے جیسے دیگر ممالک کرتے ہیں۔ اس نے امریکہ اور جنوبی کوریا پر ‘دوہرے معیار’ اور ‘مخالف پالیسی’ کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے شمالی کوریاکے تجربات پر تنقید کرتے ہوئے اسے ‘غیر مستحکم’ کرنا اور خطے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ لیکن امریکہ کے مطابق اس کا شمالی کوریا کی طرف کوئی منفی ارادہ نہیں۔ امریکہ نے مذاکرات کی بحالی کی پیش کش کو بھی قبول کرنے پر زور دیا ہے۔


شمالی کوریا امور کے لیے امریکی خصوصی نمائندے سام کم (بائیں) جاپان کے خصوصی سفارت کار تاکے ہیرو فوناکوشی(درمیان) اور جنوبی کوریا کے سفارت کار نوہ کیوڈک (دائیں) ٹوکیو میں کانفرنس کے موقع پر - 14 ستمبر 2021

شمالی کوریا امور کے لیے امریکی خصوصی نمائندے سام کم (بائیں) جاپان کے خصوصی سفارت کار تاکے ہیرو فوناکوشی(درمیان) اور جنوبی کوریا کے سفارت کار نوہ کیوڈک (دائیں) ٹوکیو میں کانفرنس کے موقع پر - 14 ستمبر 2021

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے جمعے کو کہا کہ واشنگٹن مسائل پر بات کرنے کے لیے اب بھی تیار ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے لیے مخصوص مسودے تیار کیے ہیں۔ لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

اس رپورٹ میں شامل مواد خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے