اسلام آباد/واشنگٹن(خبر ایجنسیاں +مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے 44 پیسے فی لیٹر تک اضافہ کردیا۔ وزارت خزانہ نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے 44 پیسے فی لیٹر تک اضافہ کردیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 31 اکتوبر تک ہوگا۔نوٹی فکیشن کے مطابق 16اکتوبر 2021ء سے پیٹرول 10
روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 137روپے 79 پیسے فی لیٹر ملے گا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12روپے 44 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 84 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت 10روپے 95 پیسے اضافے کے بعد 110 روپے 26 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔اس طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 122.04 روپے سے بڑھ کر 134.48 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 99.51 روپے سے بڑھ کر 108.35 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔یاد رہے کہ اوگرا کی جانب سے پیٹرول کی قیمت 5روپے 90پیسے فی لیٹر تک بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری بھی دے دی جس کے بعد بجلی کی قیمت میں ایک روپے 68 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔دریں اثنا وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے عوام کو خبر دار کیا ہے کہ مہنگائی نیچے نہیں آئے گی،واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ تیل سمیت دیگر اشیا دنیا بھر میں مہنگی ہو رہی ہیں اور کیوں ہورہی ہیں اس کی وجہ معلو م نہیں۔کورونا وبا کے اثرات کم ہوں گے تو مہنگائی نیچے آئے گی، ملک کی 40 فیصد آبادی کو ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے، ہمارے پاس ڈیٹا بیس آگیا ہے جس سے پتا لگایا جاسکتا ہے کہ ہرگھرمیں آمدن کتنی ہے، اگلے 4 سے 5 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 20 فیصد تک لے کر جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے،آئی ایم ایف کو اعدادوشمار دے دیے ہیں وہ آئندہ دو چار روز میں توثیق کریں گے۔شوکت ترین کا کہنا تھا کہ امریکی نائب معاون وزیرخارجہ سے ملاقات میں کہا کہ غلطیاں دونوں طرف سے ہوئیں، اب آگے بڑھنا چاہیے۔دوسری جانب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف ٹیکس بڑھانے کا کہہ رہا ہے، عالمی منڈی کی قیمتیں وزیر اعظم کے اختیار سے باہر ہیں، اس وقت پیٹرول انٹرنیشنل مارکیٹ میں 3 سال کی بلند ترین سطح پر ہے،عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے سے پاکستان میں بھی قیمتیں بڑھتی ہیں۔مشیر احتساب نے مزید کہا کہ نیب آرڈیننس میں تھوڑا سا ابہام ہے، بیوروکریسی سمجھتی ہے کہ نیب انہیں تنگ کرتا ہے، اس قانون کے تحت یہ واضح ہوگیا کہ محض مشورہ دینا نیب کے دائرہ کار میں نہیں آتا، مشورہ دینے والے افسر کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی ، اگر کوئی کرپشن تھی تو پھر نیب کارروائی کر سکتا ہے، جو ادارہ اپنا کام بہتر نہیں کرتا وزیر اعظم اس پر تنقید کرتے ہیں، ایک پرائیویٹ بندا جس کا تعلق پبلک آفس سے نہیں ہے وہ بھی نیب کے دائرے میں نہیں ہے، نیب کو دشواری آرہی ہے کہ اب قانون کے تحت تمام ثبوتوں کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ ہونی ہے۔

