English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا کو افغانستان میں بڑی شرمندگی ہوئی،دشمن آرام سے نہیں بیٹھے گا

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) امریکا کو افغانستان میں بڑی شرمندگی ہوئی ہے‘ وہ آرام سے نہیں بیٹھے گا اور دشمن ہمارے ملک میں خانہ جنگی کرانے کی کوشش کرے گا‘ اس کا مقصد ایٹمی قوت پاکستان کو 2 قومی نظریے سے ہٹانا اور سی پیک کو سبوتاژ کرنا ہے‘ امریکا نے ہمیشہ پاکستان کو استعمال کر کے چھوڑا اور پھر اس کے بعد پاکستان پر پابندیاں لگائی گئیں‘ پاکستان کو بلیک میل کرنے اور قربانی کا بکرا بنانے کی ایک بار پھر سازش ہورہی ہے‘ افغانستان میں امریکا اپنی شکست پر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کو اکیلے شکست نہیں ہوئی اور بھی ممالک اس کے ساتھ شریک ہیں ان کو بھی شکست ہوئی ہے۔ان خیالات کا اظہار مدیر اعلیٰ اردو ڈائجسٹ الطاف حسن قریشی، ملکی و عالمی امور کی ماہر، معروف سیاسی و خارجہ پالیسی و تجزیہ کار، کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت اور اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو خالد ایچ چانڈیو نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’امریکا افغانستان میں اپنی شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے لیے کوشاں ہے؟ الطاف حسن قریشی نے کہا کہ افغانستان میں شکست خوردہ ممالک اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ پاکستان کے لیے اس وقت بہت بڑے چیلنجز سامنے آگئے ہیں اور نازک حالات کی وجہ افغانستان کی صورتحال ہے‘ افغانستان کے حالات ہمیشہ پاکستان پر اثر انداز ہوتے ہیں‘ امریکا کو افغانستان میں بڑی شرمندگی ہوئی ہے وہ آرام سے نہیں بیٹھے گا اور دشمن ہمارے ملک میں خانہ جنگی پیدا کرانے کی کوشش کرے گا‘ موجودہ صورتحال میں اور ملکی بقا کی خاطر حکومت اور اپوزیشن کو مل کر بیٹھنا چاہیے‘ افغان صورت حال پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ دنیا میں بدامنی کا ذمے دار امریکا ہے جس نے اپنے حلیفوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کی خود مختاری کو تاخت و تاراج کر ڈالیں۔ عدم استحکام سے دوچار کرنے کا مقصد ایٹمی قوت پاکستان کو دو قومی نظریے سے ہٹانا اور سی پیک کو سبوتاژ کرنا ہے۔ طلعت عائشہ وزارت نے کہا کہ افغانستان میں شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جا رہا ہے‘ امریکا نے ہمیشہ پاکستان کو استعمال کر کے چھوڑا اور پھر اس کے بعد پاکستان پر پابندیاں لگائی گئیں‘ پھر تفتیش کا مطالبہ اور پابندیوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں‘ میرے خیال میںامریکا پاکستان سے یہ مطالبہ کرے گا کہ پاکستان چین سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے، سی پیک ختم کرے اور امریکا کو فضائی اڈے دے‘ افغانستان میں شکست امریکا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے‘ امریکا کو یہ معلوم ہے کہ اس کی عسکری بالادستی کے دن ختم ہو رہے ہیں۔ وہ معاشی طور پر بھی کمزور ہو رہا ہے اور ایسے میں افغانستان کی شکست نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ امریکا کی عسکری بالادستی مضبوط نہیں ہے تو وہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر یہ ثابت کرنا چاہتاہے کہ بالادستی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا کو واقعی کوئی تحقیق کرنی ہے تو اسے اس بات کی تحقیق کرنا چاہیے کہ کس طرح لاکھوں کی افغان فوج 60، 70 ہزار طالبان کے سامنے ڈھیر ہو گئی ہے‘ امریکا کے اندر ایک لابی ہے جو یہ معلوم کرنا چاہتی ہے کہ افغانستان میں اسے شکست کیوں ہوئی اور انہیں اس کے لیے ایک قربانی کا بکرا چاہیے۔ خالد ایچ چانڈیو نے کہا کہ امریکا ایک بہت بڑی طاقت اور سپر پاور ہے‘ میرے خیال میں دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو اتنی مضبوط رہی ہوگی۔ اگر ہم اس کی معیشت، دفاع اور سیاست کو دیکھیں تو وہ بہت مضبوط ہے تو سپر پاور کے لیے شکست قبول کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ یہی مسئلہ امریکا کے ساتھ بھی ہے پاکستان اور دیگر ممالک میں یہ سوچا جا رہا ہے کہ امریکا کو شکست ہوئی ہے۔میرے خیال میں امریکا صرف افغانستان سے نکلا ہے‘ ان پر بہت دبائو آرہا تھا جیسے معاشی دبائو اور یہ امریکی تاریخ میں بہت لمبی جنگ رہی۔ تو کچھ وجوہات کی وجہ سے انہوں نے افغانستان سے نکلنا پسند کیا۔ میرا پوائنٹ یہ ہے کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ امریکا کو شکست ہوئی ہے یا نہیں کیونکہ ان کے جو مقاصد تھے کہ القاعدہ کو ہرانا اور بھی بہت سے چھپے ہوئے مقاصد ہوں گے جو مجھے اور آپ کو نہیں معلوم ہیں۔ہوسکتا ہے کہ انہوں نے وہ بھی حاصل کر لیے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اسے امریکا کی شکست تسلیم کر رہے ہیں اور ہمارے لوگ اس کا جشن منا رہے ہیں اور یہی چیز امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں دراڑ بننے کا باعث ہوگی‘ اگر دوسرے ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور یورپ کے ممالک یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ امریکا کو شکست ہوئی ہے تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امریکا کو شکست ہوئی ہے اور ہمارے تعلقات بھی امریکا کے ساتھ اونچ نیچ کا شکارہوتے رہتے ہیں‘ اور وہ شکست کا 100% قصور پاکستان پر نہیں ڈال سکتا ہے لیکن وہ (امریکا) شراکت داری میں کہہ سکتا ہے کہ پاکستان بھی ساتھ ہے۔ امریکا کو افغانستان میں شکست ہوئی وہ شریک ڈھونڈ رہا ہے جیسے پاکستان۔ جسے انگریزی میں Escape Boat کہتے ہیں ہیں امریکا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کو اکیلے شکست نہیں ہوئی اور بھی ممالک اس کے ساتھ شریک ہیں ان کو بھی شکست ہوئی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے