کابل (آن لائن) امارت اسلامیہ افغانستان نے اپنے مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے ذخائر کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قحط زدہ ملک کو نقدی کی کمی، غذائی قلت اور نقل مکانی کے بحرانوں کا سامنا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے افغانستان کے 10 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے فوری جاری کرنے کا مطالبہ
کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر افغانستان کے مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں کو بحال کردیا جائے تو کسی اور مالی امداد کی ضرورت نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما میں افغان شہریوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مالی امداد کی فوری ضرورت ہے اس لیے جی 20 اجلاس میں منظور کی گئی ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی امداد فوری تقسیم ہونی چاہیے۔ دوسری جانب امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغان وفود کے روس، قطر اور ازبکستان کے دورے کامیاب رہے۔ کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ترکمانستان کے وفد سے ملاقات میں سرحدی سیکیورٹی اور تاپی پروجیکٹ پر بات ہوئی۔ امارت اسلامیہ کے ترجمان نے کا کہنا تھا کہ ترکمانستان کے وفد سے ریل روڈ پروجیکٹ اور انسانی امداد پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ترکمانستان کا وفد ترکمانستانی وزیر خارجہ کی سربراہی میں آج افغانستان کے دو روزہ دورے پر کابل پہنچا ہے۔
