English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹی ایل پی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے سے دستبردار ،حکومت سے معاہدہ ہوگیا،مفتی منیب الرحمن

اسلا م آباد:اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،مفتی منیب الرحمن ٹی ایل پی رہنمائوںکے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد(صباح نیوز+آن لائن) حکومت اورتحریک لبیک پاکستان کے درمیان نیا معاہدہ طے پاگیا ہے ۔ جس کے مطابق ٹی ایل پی فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے سے دستبردار ہوگئی ہے۔ کالعدم تنظیم آئندہ کسی لانگ مارچ یا دھرنے سے گریز کرے گی اورآئندہ بطور سیاسی جماعت قومی دھارے میں شریک ہوگی ۔ حکومت کالعدم تنظیم کے گرفتار کارکنوں کو رہا کردے گی۔ دہشت گردی سمیت سنگین مقدمات کا سامنا کرنے والے کارکنوں کوعدالت سے ریلیف لینا ہوگا۔ دھرنے کے شرکاء کے خلاف حکومت کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کرے گی اور ٹی ایل پی کوکالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لے گی۔ معاہدے کی روح سے سعد رضوی کو ایک ہفتہ میں عدالتی عمل مکمل ہونے کے بعد رہا کردیا جائے گا۔ شوریٰ کے ان گرفتار اراکین کو فوراً رہا کردیا جائے جن پر عدالتی عمل درکار نہیں جبکہ باقیوں کو عدالتی عمل کے ذریعے رہا کیا جائے گا۔ دھرنے کے شرکاء ایک سے دو روز میں واپس اپنے گھروں کو جائیں گے۔ ذرائع نے کے مطابق کہ حکومت کی جانب سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیرمملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے معاہدے پر دستخط کیے جب کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے مفتی منیب الرحمن نے بطور ضامن معاہدے کے لیے کردارادا کیا۔ بعد ازاں اسلام آباد میں شاہ محمود قریشی، اسد قیصر، علی محمد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ حکومت اور کالعدم تنظیم کے مابین تفصیلی مذاکرات کے بعد اتفاق رائے سے معاہدہ طے پایا، آئندہ عشرے میں اس کے مثبت نتائج سامنے آجائیں گے، یہ وہ معاہدہ نہیں جو دوپہر کو معاہدہ اور شام کو منسوخ کر دیا جائے ،ذمے داروں کی یقین دہانی پر اعلان کررہا ہوں ،اس معاہدے کو ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی تائید حاصل ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے 3رکنی کمیٹی قائم کی اور انہوں نے کمیٹی کو بااختیار بنایا اور اعتماد کا اظہار کیا ، عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ کسی کی فتح نہیں بلکہ محب الوطنی اور انسانی جان کی فتح ہے۔مفتی منیب نے کہا کہ یہ مذاکرات کسی جبر کے ماحول میں نہیں ہوئے بلکہ سنجیدہ ماحول میں ہوئے، میڈیا کو مثبت انداز میں پیش کرنا چاہیے اور ملک میں امن و امان اور عافیت کے لیے جدوجہد کی گئی ہے اس میں میڈیا کو اپنا حصہ شامل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ناخوشگوار واقعے سے پہلے معاہدہ ہونا خوش آئند ہے، معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر سامنے آجائیں گی اور آپ عملی نتائج دیکھیں گے، اس میں مصالحت کار کا کردار ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے نتیجے میں علی محمد خان کی سربراہی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس کی نگرانی کرے گی جبکہ وزیر قانون راجا بشارت، سیکرٹری وزارت داخلہ اور صوبائی سیکرٹری وزارت داخلہ کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے مفتی غلام غوث بغدادی، انجینئر حفیظ اللہ علوی کمیٹی کے رکن ہوں گے، کمیٹی آج ہی سے فعال ہوجائے گی۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کامیاب معاہد ے پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں ان تمام علماء کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ملک کو بحران سے بچایا، قومی سلامتی کمیٹی میں طے ہوا کہ مذاکرات کو ترجیح دینی ہے ۔ مذاکرات کے دوران امن اور بہتری کا راستہ تلاش کیا گیا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ انتشار میں پاکستان کا فائدہ نہیں ہے،قوم اضطراب میں مبتلا تھی، سڑکیں کاروبار بند معیشت ٹھپ تھی۔تحریک لبیک شوریٰ کے علامہ غلام عباس فیضی اور مفتی محمد عمیر بھی پریس کانفرنس میں شریک ہوئے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے