English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مسلم حکمران سائنسی علوم کو اپنے اقتدار اور مفادات کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) مسلم حکمران سائنسی علوم کو اپنے اقتدار اور مفادت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ انسانی ذہن کے دریچے کھولتے اور سوچ کو آزادی بخشتے ہیں‘ مسلم دنیا کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ترقی نہ کرنے کی وجہ طلبہ و اساتذہ کا تحقیق و جستجو نہ کرنا اور غیر معیار ی نصاب ہے‘ سائنسی علوم میں 57 مسلم ممالک کی شراکت داری صرف ایک فیصد بنتی ہے اور معیار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب اور کریکٹر ایجوکیشن فائونڈیشن پاکستان کراچی کے ایمبیسیڈر، پاکستان ترکی بزنس فورم کے بانی و صدر، معروف ماہر معاشیات محمد فاروق افضل نے جسارت کے اس سوال کے جواب میںکیا کہ’’مسلم دنیا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ترقی کیوں نہیں کر پا رہی؟۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ مسلم دنیا بلخوص پاکستان کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے اپنے نظام اور نصاب تعلیم کو بدلنا ہوگا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں انسان کے طرز زندگی میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں‘ ویسے ہی روز بروز نت نئی ایجادات میں اضافہ ہو رہا ہے‘ انسانی زندگی میں ان ایجادات کا استعمال اور کردار ہر دور میں بہت اہمیت کا حامل رہا ہے‘ ان ایجادات نے انسان کو لاتعداد آسانیاں فراہم کی ہیں‘ دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے اور گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کرنا ان ایجادات کا ہی کمال ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں زندگی کے ہر میدان میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے‘ عروج کی بلندی پر قدم رکھنے کے لیے اپنے وقت اور عقل کا صحیح استعمال ہی منزل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتا ہے‘ مغرب اگر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے میدان میں صف اول میں کھڑا ہے تو انہوں نے اپنی عقل اور وقت کو ہمیشہ بروقت استعمال کیا اور زمانے کی ضروریات کو سمجھا ہے۔ احمد بلال محبوب نے کہا کہ مسلم دنیا کی دیگر اقوام عالم سیسائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کی بنیادی وجہ تحقیق و جستجو نہ کرنا ہے اس میدان میں جو جنگ برپا ہے‘ مسلمان ریاستیں اس سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتیں‘ مسلمان جس کو ابتدا سے ہی علم اور قلم کی تعلیم دی گئی تھی لیکن آج جب اس کا نام آتا ہے تو دنیا کے سامنے ایک ایسی قوم کی تصویر بن کر ابھرتی ہے جس کی پہچان غربت، جہالت، مایوسی اور شکست خوردگی اور ذلت و خواری ہے مگر ایک دور وہ بھی تھا جب ان کی پہچان مذہبی اور سائنسی علوم ہوا کرتے تھے ‘ وہ دنیا کی قیادت کر رہے تھے‘ سن800 سے 1100 کا یہ وہ دور تھا‘ جب مسلمانوں نے فلسفہ، منطق، اخلاقیات، طب، سائنس، ریاضی، علم فلکیات اور فن تعمیر میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں‘ مسلمانوں کی ابتدائی دور کی خدمات کو آج بھی مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے‘ قدیم دور کے آپریشن کے آلات کے نمونے بھی سائنس کے طلبہ کو دکھائے جاتے ہیں تاکہ انہیں اندازہ ہوسکے کہ قدیم دور سے جدید دور میں داخل ہونے میں کتنے مراحل طے کرنے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے بدلتے اسرار و رموز نے بہت کچھ بدل دیا‘حکومت کرنے کے طریقے بدلے، معاشی ترقی کے تصورات بدلے گویا انسان کے ذہن کی ترقی کا سفر ابھی تک جاری ہے۔ اس جدید دور میں محض مسلمانوں کے شاندار ماضی پر اکتفا کر لینے یا پھر مسلمانوں کے سائنسی شعبے میں کارناموں کی لمبی داستانیں بیان کرنے سے دل کو جھوٹی تسلی تو دی جا سکتی ہے مگر مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کو ان کہانیوں سے دوبارہ زندہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ محمد فاروق افضل نے کہا کہ مسلم دنیا کی سائنسی میدان میں پسماندگی کی بڑی وجہ مسلم دنیا کا ناقص نظام تعلیم ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ڈاکٹر اور انجینئر پیدا کر رہا ہے لیکن ہم سائنسدان پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں‘ہمارا طریقہ تعلیم ایسا ہے کہ ہم نے سارا زور یاد داشت کو تیز کرنے پر صرف کیا ہے‘ اس طرح ہم اپنے طریقہ تعلیم کے ذریعے ایک اچھے اور دیرپا یاد داشت رکھنے والے طوطے پیدا کر رہے ہیں‘ہمیں ماضی کا مقابلہ ماضی اور حال کا مقابلہ حال اور مستقبل کا مستقبل سے کرنا چاہیے حقائق کو تسلیم کرکے ہی ہم آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھ سکتے ہیں‘دنیا بھر کے سائنسی علوم میں 57 مسلم ممالک کی شراکت داری صرف ایک فیصد بنتی ہے اور وہ بھی معیار کے لحاظ سے کسی گنتی میں نہیں آتی ہے‘ موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہے ‘ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم دنیا سائنسی ترقی میں ناکام ہے‘ دراصل مسلم دنیا اپنی ایک ہزار سالہ عروج کی تاریخ میں 950 سال سے زاید عرصے موروثیت، ملوکیت اور آمریت کے زیر اثر رہی ہے اور اب بھی بیشتر اسلامی ممالک اس کے چنگل میں ہیں‘ ایسے معاشرے سائنسی علم کی اس خصوصیت سے ڈرتے ہیں کہ وہ انسانی ذہن کے دریچے کھولتا ہے‘ اس کی سوچ کو آزادی بخشتے ہیں‘ ایسے معاشرے کے طاقتور عناصر کو یہ خوف ہوتا ہے کہ اس علم کے فروغ کے نتیجے میں ان کے اقتدار کو چیلنج کرنے والے پیدا ہوجائیں گے اس لیے وہ علم کی روشنی کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں لہٰذا علم بالخصوص سائنسی علوم کو فروغ دینے سے گریزکرتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا کا سائنسی ترقی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے جب تک تعلیم کو علم کی روشنی کے دشمنوں کے چنگل سے آزاد نہیں کرایا جائے گا سائنسی ترقی اس وقت تک نہیں ہوسکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے