بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو 31 اکتوبر 1984 کو قتل کر دیا گیا ۔ اگلے ہی دن یعنی یکم نومبر 1984 سے دہلی سمیت ہندوستان کے کئی حصوں میں سکھ مخالف فسادات پھوٹ پڑے۔ ان فسادات سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے، بہت سے لوگ بے گھر ہو گئے اور کئی خاندان اپنے خاندانوں سے محروم ہو گئے۔ اس فساد میں کتنے لوگوں کی موت ہوئی اس کے بارے میں مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ صرف دہلی میں تقریبا 2500 لوگ مارے گئے تھے، جب کہ ملک بھر میں مرنے والوں کی تعداد 3500 کے قریب تھی۔
اس وقت کی حکمراں جماعت کانگریس پر اس قتل عام کو بڑھاوا دینے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔اس قتل عام میں آج تک کسی کو بھی انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔
دہلی کے مضافاتی علاقے ترلوکپوری کے اس علاقے میں ایک گردوارہ واقع ہے جہاں سب سے زیادہ سکھوں کو قتل کیا گیا۔ اس وقت لوگ سمجھے کہ گردوارہ محفوظ ترین جگہ ہے۔ لیکن اس وقت اس گردوارے کی دیواریں اتنی اونچی نہیں تھیں اور مشتعل ہجوم ہر طرف سے دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوگیا۔ ہجوم نے کسی کو نہیں بخشا اور یہ احاطہ لاشوں سے بھر گیا۔
دہلی پولیس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ نہ صرف اس نے اس قتل عام کو روکا نہیں بلکہ اس میں مدد بھی کی۔ چند اطلاعات کے مطابق تو ووٹرز لسٹ سے اس بات کی نشان دہی کی گئی کہ سکھ افراد کہاں کہاں رہائش پذیر ہیں۔
پرتشدد کارروائیوں کے چار روز گزرنے کے بعد جب بھارتی فوج نے امن و امان کی ڈیوٹی سنبھالی تو ترلوکپوری میں 400 سکھوں کا قتل کیا جا چکا تھا۔
اس قتل عام کے بعد ترلوکپوری کے ہزاروں سکھ اپنے ہی شہر میں مہاجرین بن گئے اور کئی سکھ خاندانوں نے تلک نگر کے علاقے میں پناہ لی۔
ان مہاجرین میں سے ایک اتر کور ہیں۔ خستہ حال مکان کی ایک دیوار پر ان کی اپنے شوہر کے ساتھ تصویر لگی ہوئی ہے۔اتر کور نے کہا: جب اندرا گاندھی کو قتل کیا گیا تو ہم بہت غمگین تھے۔ لیکن میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ وہ میرے شوہر کو مجھ سے جدا کر دیں گی۔ ایک مسلمان گھرانے نے مجھے اور میرے بچوں کو پناہ دی۔ انھوں نے ہمیں کہا کہ ہجوم بچوں کو کچھ نہیں کہے گا لیکن جب ہم باہر نکلے تو بچوں کی لاشیں بکھری دیکھیں۔
اس قتل عام میں اتر کور کے 11 قریبی رشتے دار قتل کر دیے گئے تھے۔
2015 میں مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے سابق جج (ریٹائرڈ) جسٹس جی پی۔ ماتھر کی صدارت میں تشکیل دی گئی کمیٹی نے فسادات پر رپورٹ پیش کی۔ اس کمیٹی نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی دوبارہ تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے قیام کی سفارش کی۔ رپورٹ میں ہی دہلی کے تھانوں کی بنیاد پر ڈیٹا بھی پیش کیا گیا ، جس میں ہر تھانے کے حساب سے اس وقت کی صورتحال بتائی گئی ہے۔
دہلی کینٹ پولیس اسٹیشن
اس تھانے کے اعداد و شمار کے مطابق 31 اکتوبر کی رات کو یہاں فسادات شروع ہوئے اور 2 نومبر تک حالات انتہائی خطرناک تھے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق 31 اکتوبر سے 5 نومبر کے درمیان اس علاقے میں 246 سکھوں کو قتل کیا گیا۔ فسادات پر بنائی گئی دیگر کمیٹیوں کے مطابق یہ تعداد 341 تک ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کے مطابق اس علاقے میں 6 گرودوارے، 385 مکانات، 110 دکانیں اور 45 گاڑیاں جلا دی گئیں۔
سیما پوری پولیس اسٹیشن
اس وقت آر سی ٹھاکر سیما پوری تھانے میں اسٹیشن ہاوس آفیسر تھے۔ اس دوران اس تھانے کے تحت آنے والے کئی علاقے بھی فسادات سے متاثر ہوئے۔ حالانکہ پولیس ریکارڈ کے مطابق اس تھانے کے علاقے میں 32 سکھ مارے گئے تھے لیکن آہوجا کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ یہاں 247 سکھ مارے گئے۔ جسٹس مشرا کمیٹی کی رپورٹ میں 203 لوگوں کی تعداد بتائی گئی ہے۔ دہلی انتظامیہ نے 205 لوگوں کو معاوضہ بھی دیا تھا۔
گاندھی نگر پولیس اسٹیشن
پولیس ریکارڈ کے مطابق اس علاقے میں 30 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ جبکہ ریلیف کمشنر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یکم نومبر سے 3 نومبر کے درمیان اس علاقے میں 51 افراد کی موت ہوئی ہے۔ اس علاقے میں 4 گرودوارے، 56 دکانیں اور 24 گاڑیاں جلا دی گئیں۔
کلیان پوری پولیس اسٹیشن
یہ وہ علاقہ تھا جہاں شدید فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ یکم نومبر 1984 سے 3 نومبر 1984 تک یہاں قتل عام دیکھا گیا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہاں 154 سکھ مارے گئے جبکہ آہوجا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں اس سے کئی گنا زیادہ 610 سکھ مارے گئے۔ اس کے علاوہ یہاں لوٹ مار وغیرہ کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ۔
تھانہ شاہدرہ
اس وقت دہلی کے کونے کونے میں سکھ فسادات کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ پولیس اسٹیشن کے جاری کردہ ریکارڈ کے مطابق اس تھانہ کی حدود میں آتش زنی کے 114، ڈکیتی کے 36 اور قتل کے 33 مقدمات درج ہیں۔ یکم سے پانچ نومبر کے درمیان یہاں پر تشدد ہوا تھا۔ لیکن جسٹس مشرا کی رپورٹ میں اس علاقے میں 580 سے زیادہ اموات کے حلف نامے جمع کرائے گئے۔
تھانہ سلطان پوری
تھانہ سلطان پوری کا علاقہ بھی شدید متاثر ہوا۔ اس میں بھی یہاں کے A-4، C-4 اور F بلاکس کافی متاثر ہوئے۔ یہاں بھی 150 سے زائد قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
تھانہ نانگلوئی
نانگلوئی تھانہ علاقے میں بھی یکم نومبر سے 3 نومبر کے درمیان انتہائی خطرناک حالات تھے۔ ان تین دنوں میں اس علاقے میں 122 سکھ مارے گئے۔ 5 گوردوارے اور 34 گاڑیاں جلا دی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت جے جے کالونی میں رہنے والے گروبچن سنگھ کے گھر پر 500 سے 700 لوگوں نے ایک ساتھ حملہ کیا۔
