English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی تربیت یافتہ افغان فوجی داعش میں شامل

القمر

 

کابل (انٹرنیشنل ڈیسک) طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے سے قبل امریکی فوج کی نگرانی میں تربیت حاصل کرنے والی سابق افغان فوج کے اہل کار داعش کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ افغان انٹیلی جنس سروس کے کچھ سابق ارکان اور ایلیٹ فورس اہل کار جنہیں امریکا نے تربیت دی تھی اور طالبان کی آمد کے بعد چھوڑ دیا تھا، اب وہ داعش میں شامل ہوگئے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے والے منحرف سابق فوجیوں کی تعداد نسبتاً کم ہے، لیکن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے داعش کو انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور جنگی تکنیکوں میں اہم مہارت رکھتے ہیں۔ یہ سابق فوجی طالبان کی بالادستی کا مقابلہ کرنے کے لیے شدت پسند گروہ کی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں۔ افغان نیشنل آرمی کا ایک افسر جس نے جنوب مشرقی صوبہ پکتیا کے صدر مقام گردیز میں فوج کے اسلحہ اور گولہ بارود کے ڈپو کی کمانڈ کی تھی، شدت پسند گروپ کی علاقائی شاخ خراسان میں شمولیت اختیار کی تھی اور ایک ہفتہ قبل طالبان جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا تھا۔ ایک سابق اہل کار نے کہا کہ کئی دوسرے سابق فوجی جن کو وہ جانتے ہیں سابق افغان جمہوریہ میں انٹیلی جنس اور فوج کے تمام ارکان نے بھی داعش میں شمولیت اختیار کی۔ طالبان نے ان کے گھروں کی تلاشی لی اور ان پر زور دیا کہ کہ وہ خود کو ملک کے نئے حکام کے سامنے پیش کریں۔ کابل کے شمال میں واقع ضلع کاراباخ کے ایک رہایشی نے بتایا کہ اس کا کزن افغان اسپیشل فورسز کا سابق اہم رکن ستمبر میں لاپتا ہو گیا تھا اور اب داعش کے ایک سیل کا رکن ہے۔ اس نے بتایا کہ افغان نیشنل آرمی کے 4 دیگر ارکان جن کو وہ شخص جانتا تھا داعش تنظیم میں شامل ہو گئے تھے۔ این ڈی ایس کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے کہا کہ کچھ علاقوں میں داعش سابق فوجیوں کے لیے بہت پُرکشش بن تنظیم بن گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے