
گلوسگو (انٹرنیشنل ڈیسک) اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس شروع ہوگئی،جو 12نومبر تک جاری رہے گی۔ اجلاس میں میں 120سے زائد عالمی سربراہان شرکت کریں گے۔ اس سے روم میں ہونے والے جی 20اجلاس کے دوران بھی ماحولیاتی تبدیلیوں پر بات چیت ہوئی تھی،تاہم امریکا کی جانب سے روس اور چین پر الزام تراشیوں کے باعث عالمی رہنما کسی نکتے پر متفق ہونے میں ناکام رہے تھے۔ صدر بائیڈن نے چین اور روس کا رویہ مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے ماحول کی بہتری کے لیے کوئی عزم ظاہر نہیں کیا۔ ادھر تُرک صدر رجب طیب اردوان جی 20سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد وطن پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے گلاسگو میں جاری عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں اپنی طے شدہ شرکت منسوخ کر دی۔ تُرک ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک صدر کے ماحولیاتی عالمی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی وجہ نہیں بتائی۔ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف بین الاقوامی برادری کی جانب سے زبانی دعوؤں اور صفر کارکردگی کے خلاف مظاہرین کے گروہ گلاسگو پہنچنا شروع ہوگئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جی 20 ممالک کی جانب سے کوئی ٹھوس موقف اختیار نہ کرنے پر ماحولیاتی کارکنوں کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔ ماحولیاتی کارکنوں کو توقع تھی کہ گلاسگو کانفرنس سے قبل دنیا کے 20 اہم ممالک کے رہنما ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کسی ٹھوس موقف کا اعلان کریں گے، تاہم یہ رہنما ضر ررساں گیسوں کے اخراج کو کم کرنے یا کوئلے کے استعمال کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے کسی متعین تاریخ کو طے کرنے میں ناکام رہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جی 20 کے رہنما عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھنے پرمتفق تھے، تاہم وہ ضرر رساں گیسوں کے اخراج کو صفر تک لانے کے لیے کوئی مقررہ تاریخ طے نہیں کر پائے۔ اقوام متحدہ کے سکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے جی 20 کانفرنس میں کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آنے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
