
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) ایک اسرائیلی ایف 15 لڑاکا طیارے نے امریکی بمبار طیارے کے ساتھ خطے کی فضا میں پرواز کی۔ یہ پرواز ایران کے لیے خطرے کا واضح پیغام ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ پرواز خطے میں امریکی افواج کے ساتھ جاری آپریشنل تعاون کی علامت ہے۔ اسرائیل اور امریکی افواج کے بمبار طیاروں کی مشترکہ پرواز کا مشن اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی اور امریکی حکام تہران کے جوہری پروگرام کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے پرواز کی تصاویر اور وڈیو فوٹیج جاری کی ہیں جس میں امریکی بی ون بمبار کو دکھایا گیا ہے۔ یہ بمبار طیارہ بھاری بنکر کو تباہ کرنے والے بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران کی زیر زمین دبی جوہری تنصیبات پر حملے کی صورت میں اس طیارے کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیلی حکام کھلے عام ایران کے جوہری پروگرام پر فوجی حملے کی دھمکی دیتے ہیں، جب کہ امریکی حکام تہران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے سفارتی مذاکرات کے علاوہ دوسرے آپشنز کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے پر زیادہ محتاط انداز میں بات کرتے ہیں۔ اس سال کے آغاز اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف اویو کوچاوی نے اعلان کیا کہ انہوں نے فوج کو ایران کے خلاف فوجی آپریشن کے لیے نئے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر جو بائیدن کا کہنا ہے کہ ہم اپنے مفادات کے خلاف ڈرون حملوں سمیت ایران کے اقدامات کا جواب دیں گے ۔ انہوں نے یہ بات اتوار کی شام روم میں G20 کے سربراہ اجلاس کے اختتام پر منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ امریکی صدر کے مطابق جوہری معاہدے کی بحالی ایران کے تصرفات کے ساتھ مربوط ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ سمجھوتے کی طرف نہ لوٹنے کی صورت میں ایران کو اقتصادی قیمت چکانا پڑے گی ۔ جو بائیڈن نے بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والی ملاقات میں ان کے اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے بیچ اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے واسطے سفارت کاری بہترین راستہ ہے ۔
