اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے اراکین سمیت ایک وفد نے سوڈان میں مارشل لاء کے اقدام میں ملوث فوجی حکام کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
اسرائیل کی نیوز سائٹ ‘والا نیوز’ کی خبر کے مطابق 25 اکتوبر کو سوڈان میں اقدامِ مارشل لاء کے بعد اسرائیل سے ایک وفد نے سوڈان کا دورہ کیا ہے۔ وفد نے فوری تعاون فورسز میں متعین جنرل عبدالرحیم حمدان داگالو سمیت سوڈان کے بعض فوجی حکام کے ساتھ ملاقات کی۔
نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایک اسرائیلی فوجی شخصیت کے حوالے سے شائع کی گئی خبر میں کہا گیا ہے کہ دورے سے اسرائیلی وفد کا مقصد، سوڈان میں متغیر صورتحال اور اس صورتحال کے بحالی تعلقات سمجھوتے کی کوششوں پر اثرات کے بارے میں، زیادہ بہتر تائثر حاصل کرنا تھا۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ داگالو سمیت سوڈانی فوجی وفد نے اقدامِ مارشل لاء سے چند ہفتے قبل تل ابیب کا دورہ کیا اور اسرائیلی حکام سے ملاقات کی تھی۔
خبر میں متعدد ممالک کے برعکس اسرائیل کے سوڈان میں اقدامِ مارشل لاء کے مقابل خاموشی اختیار کرنے کی یاد دہانی کروائی گئی اور کہا گیا ہے کہ اس خاموشی نے اسرائیل کے مارشل لاء کے حق میں ہونے کی حس پیدا کی ہے۔
خبر میں، اسرائیل کے ساتھ بحالی تعلقات مرحلے میں سوڈان سے سِول حکام سے زیادہ فوجی حکام کی شرکت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
