کراچی (اسٹاف رپورٹر) مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ خورشید شاہ سمیت اپوزیشن کے تمام ارکان نیب مقدمات میں سرخرو ہوکر نکلے ہیں، اب احتساب کی باری اپوزیشن نہیں حکومت کی ہے، وزیراعظم نے الیکشن کمیشن سمیت اہم اداروں میں تعیناتی کو مذاق بنا دیا ہے، ایٹمی ملک زائچوں اور جنتریوں سے نہیں چلتے، پتا نہیں وزیراعظم کہاں سے مشورے لیتے ہیں جن کے ذریعے ملک تباہ کیا جا رہا ہے، کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو قوم کے سامنے پیش کیا جائے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو صادق و امین قرار دینے کے فیصلے کو ایک شخص کی خواہش قرار دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے، عمران خا ن نے 3 سال میں سب سے زیادہ غلط بیانی کی ہے۔ ان خیالات کا اظہاراحسن اقبال نے کراچی کے علاقے ماڑی پور میں نارووال شکر گڑھ کی رانا برادری کی دعوت پر استبقالیہ تقریب سے خطاب اور خورشید شاہ سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کے دوران کیا۔ ماڑی پورمیں استقبالیہ تقریب سے خطاب میں احسن اقبال نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے پاس کراچی میں اور اندرون سندھ قابل ذکر سیٹیں نہیں تھیں مگر نواز شریف نے عوام کیلیے بلا تفریق کام کیا، نوازشریف نے عوامی پروجیکٹ کے لیے 25 ارب روپے دیے مگر نالائق حکومت نے 10 فیصد بھی کام نہیں کیا، بڑے بڑے حکمران اور ڈکٹیٹر آئے مگر پاکستان کا انفرا اسٹرکچر نہیں بنایا، پاکستان میں کہیں بھی نیا منصوبہ نظر آئے گا اس پر مسلم لیگ کی مہر لگی ہو گی، سلیکٹڈ حکومت نے نئے پاکستان کا نعرہ لگایا مگر ہمیں ڈرائونا پاکستان نظر آتاہے، جو ہمیں چور اور ڈاکو بولتے ہیں وہ اپنا محاسبہ کریں، وقت جلد بدلے گا، آج کے حکمران جاہل اور اناڑی ہیں، انہوں نے عدالتوں کو بے وقعت، پارلیمنٹ کو بے توقیر اور آئی ایس آئی جیسے اہم ادارے سمیت سیکورٹی اداروں کو ٹرانزٹ میں ڈال دیا ہے، دفاعی اداروں کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے، نئے نیب آرڈینس کے اجرا کا مقصد اپنے وزرا اور خود کو کرپشن سے بچانا ہے۔ علاوہ ازیں احسن اقبال نے پی پی رہنما سید خورشید شاہ سے بھی ملاقات کی، سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ آج کی ملاقات کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا، احسن اقبال میری رہائی کے بعد خیریت دریافت کرنے کیلیے آئے تھے۔انہوں نے کہاکہ میں عدالت عظمیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ آرٹیکل 62، 63 کے کیسز پر ایک بار غور کرنا چاہیے، ادارے نہیں بلکہ ایک شخص نے کسی کو خوش کرنے کیلیے کسی کو صادق و امین قرار دیا، اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے، کیونکہ 3 سال میں عوام سے سب سے زیادہ غلط بیانی عمران خان نے کی ہے، عمران خان نے کھل کر عوام کو دھوکا دیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج پی ڈی ایم کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، اپوزیشنمتحد اورمضبوط اوریہ حکومت مخالف ہے اور غریب عوام کے ساتھ ہے۔
