کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جب تک امن قائم نہیں ہوگا ہم ترقی کی جانب نہیں بڑھ سکتے اور امن کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں سیسٹن ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی جانب سے ’’پاکستان میں امن اور پائیدار ترقی کے سلسلے میں پارلیمنٹ کا کردار اور استحکام‘‘ کے موضوع پر منعقدہ 2 روزہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، رکن قومی اسمبلی احسن اقبال و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و انصاف کیلیے امیر‘غریب کا فرق اور سیاسی انا و عصبیت ختم کرنا ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلی سندھ کا کہنا تھاکہ یہ بہت اہم کانفرنس ہے اور ایک اہم موضوع پر ہو رہی ہے، اگر ہم اپنی تاریخ کو دیکھتے ہیں اور ہمارے ملک میں انتہاپسندی کا آغاز 80 کی دہائی میں ہوا جب ملک میں مارشل لا لگا اور جمہوریت کو سبوتاژ کیا گیا۔ جب ہماری حکومت آئی تو ہمارا واحد مقصد ملک میں امن لانا تھا، ہم نے سوات میں آپریشن شروع کیا اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے شہادت پائی اور ہم نے بڑی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ملک باالخصوص کراچی میں امن و امان کو بحال کیا۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ امن کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، اسمبلیوں کا کام قوانین بنانا ہے مگر قومی اسمبلی میرے خیال میں قوانین نہیں بنا رہی ہے اور یہ پارلیمنٹ کا صحیح استعمال نہیں ہے۔ یہاں کانفرنس میں چاروں صوبوں کے پارلیمنٹرین موجود ہیں، ہمیں اس بارے میں سوچنا ہوگا کیونکہ قانون سازی کے حوالے سے اسمبلی ہی واحد ادارہ ہے مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کے قوانین اڑا دیے جاتے ہیں، ابھی حال ہی میں اپریل میں ہمارے صوبے میں سندھ پبلک سروس کمیشن کا 1989ء میں بنایا گیا قانون ختم کر دیا گیا۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے کہاکہ امن و انصاف معاشرے کی بنیادی چیز ہے، وفاقی و صوبائی حکومتیں انصاف کے قیام کیلیے کوششوں میں مصروف ہیں، امیر وغریب کا فرق ختم کرنا ہوگا اگر انصاف قائم ہوجائے تو معاشرے کی چھوٹی چھوٹی خامیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ نلیگ کے مرکزی جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہاکہ ہماری سیاست میں شدت پسندی کا عنصر بڑھتا جارہا ہے، اس عنصر کو بڑھانے میں سب ہی شامل ہیں،ناانصافی، غربت، تعلیم کی کمی بھی شدت پسندی کو بڑھانے کا سبب بنتی ہے، تعصب و عصبیت کی بیماری اگر ہو تو باقی سب پیچھے رہ جاتا ہے، تعصب و عصبیت کو مٹانے کا سب سے مؤثر ذریعہ مکالمہ ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے،اگر یہ عمل نہ ہو تو سب ہی اپنی انا اور عصبیت کی بلندیوں پر کھڑے رہیں گے، اس کیلیے پارلیمنٹرینز کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ایس ایس ڈی اوکے چیف سید کوثرعباس نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں لازوال قربانیاں دیں، انتہاپسندی کے عنصرکوختم کرنیکے لیے ابھی ہمیں بہت کچھ کرناپڑے گا۔ منتخب نمائندے جب بات کرتے ہیں لوگ سنتے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ مختلف مکتبہ فکرکے لوگوں کویکجہتی کاپیغام دینا ہے۔ 100 سے زائد پارلیمنٹرینزکی تربیت کی تاکہ وہ مزید بہتراندازمیں کام کریں۔ہراسمبلی میں ایس ایس ڈی ٹاسک فورس بنائی گئی، پارلیمنٹرنز کے ساتھ مل کر ملک میں پائیدار ترقی اور امن کے فروغ کیلیے سفارشات بھی مرتب کی جائیں گی، پاکستان کی سالمیت اور پائیدار ترقی ہم سب کے مل بیٹھنے سے ممکن ہے، آخر میں ایس ایس ڈی او کی پانچویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور اس موقع پر وزیراعلی سندھ کو ادارے کی جانب سے اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔
