حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ڈویژنل کمشنر حیدر آباد محمد عباس بلوچ نے کہا ہے کہ سندھ کے روایتی ثقافتی ہنر اور تاریخی مقامات کو پوری دنیا میں متعارف کرانے کیلیے 15نومبر 2021ء سے سندھ عجائب گھر میں ایک ثقافتی میلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور تاریخی مقامات کو اجاگر کرنے کیلیے سیاحوں کو ثقافتی اور تاریخی مقامات کا دورہ کرانے کا پروگرام بھی تیار کیا گیا ہے ۔ وہ سندھ عجائب گھر میں ثقافتی میلہ لگانے کے مقام کا معائنہ کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حیدرآبادفواد غفار سومرو ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو حیدرآباد قائم اکبر نمائی ، ریجنل منیجر ثقافت و سیاحت مخدوم گلزار ، اسسٹنٹ کمشنر تعلقہ حیدرآباد دیہی سرہان ابڑو ، اسسٹنٹ کمشنر تعلقہ لطیف آبادفاطمہ صائمہ احمد ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سندھ عجائب گھر کوشلیہ پنہانی ، غیر سرکاری تنظیم نیشنل رورل سپورٹ پروگرام ( این آر سی پی ) کے ریجنل جنرل منیجر غلام مصطفی جامڑو ، ہوٹل انڈس حیدرآباد کے مالک اور ڈائریکٹر رئیس مراد مشتاق کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ یاد رہے کہ 15نومبر سے شروع ہونے والے ثقافتی میلہ محکمہ ثقافت ، ضلعی انتظامیہ اور انڈس ہوٹل حیدرآباد کی انتظامیہ کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے ۔ اس موقع پر ڈویژنل کمشنر حیدرآبادنے کہا کہ سندھ میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے با الخصوص سندھ کے دیہاتوں میں مقیم خواتین کی ہاتھ کے ہنرکا بڑا نام ہے پر بد قسمتی سے ان کی جانب مناسب توجہ نہ دینے اور ان کے ہنر کی صحیح مارکیٹنگ نہ ہونے کے باعث ہاتھ کے ہنرختم ہو رہے ہیں جنہیں دوبارہ عروج دلانے کیلیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ سندھ کے روایتی ہنر کو نہ صرف سندھ بلکہ ملک سمیت عالمی سطح پر متعارف کرایا جائیگا جس سے نہ صرف سندھ کے روایتی ہنر کو فروغ ملے گابلکہ خواتین کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ کمشنر نے مزید کہا کہ سندھ کی ثقافت ہی سندھ کا اثاثہ ہے اور اس حوالے سے دنیا میں بھی ہماری شناخت قابل فخر ہے ۔ تاریخ میں وہی اقوام زندہ رہتی ہیں جن کی زبان اور ثقافت محفوظ ہوتی ہے ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے کہا کہ ہم 5 ہزار سال پرانی شاہکار تہذیب کے وارث ہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سندھی قوم اپنے تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثہ کو نسل در نسل محفوظ بناتی آرہی ہے۔ اس موقع پر ثقافتی میلے کے حوالے ڈویژنل کمشنر حیدرآباد نے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کو ہدایت کی کہ اس میلے کو کامیاب کرنے اور لوگوں کو دلچسپ بنانے کیلیے محکمہ اطلاعات کے ذریعے اس کی موثر تشہیر کریں اور مختلف کمیٹیاں تشکیل دیکر متعلقہ افسران کی ذمے داریوں کا تعین کریں ۔ اس موقع پر موجود دیگر افسران نے میلے کے حوالے سے اپنے اپنے محکموں کی جانب سے کیے گئے انتظامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ۔ بعد ازاں ڈویژنل کمشنر حیدرآباد نے دیگر متعلقہ افسران کے ساتھ حیدرآباد کے تاریخی ورثہ قرار دی گئی مختلف مقامات جیسا کہ بسنت ہال ، میروں کے قبے ، غلام شاہ کلہوڑو کا مزار ، مکھی ہاؤس ، حسرت موہانی لائبریری ، میٹھا رام ہاسٹل اور دیگر تاریخی عمارتوں کا تفصیلی معائنہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حیدرآباد بڑی تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور یہاں کئی تاریخی و ثقافتی مقامات موجود ہیں جنہیں بحال کیا گیا ہے اور اب تک بحالی کا کام جاری ہے جبکہ اس ضمن میں مزید کوششیں کر کے حیدرآباد کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جائیگا تاکہ نہ صرف ہم اپنی قدیم تاریخ کو محفوظ بنا سکیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیاحت کیلیے بھی مواقع فراہم کر سکیں۔
