English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی عرب کو ہتھیار فراہم کرنے کی امریکی منظوری

القمر

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے سعودی عرب کو 65 کروڑ ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے سودے کی تصدیق کردی۔ اس سودے کے تحت امریکا سعودی عرب کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے 280 جدید میزائل فراہم کرے گا۔ امریکی حکام نے اس سودے کو اس لیے منظور کیا ہے، تاکہ موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں ریاض کی مدد کی جا سکے۔ ادھر ناقدین نے سعودی عرب کے ساتھ میزائیلوں کے سودے پر اعتراض کیا ہے، تاہم امریکی وزارت خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں دفاع کرتے ہوئے کیا کہ یہ ہتھیار زمینی حملے کے لیے نہیں ہیں، صرف فضائی دفاع کے لیے ہیں۔ گزشتہ برس کے دوران سعودی عرب کے خلاف سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے سودے کی منظوری دی گئی ہے۔پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل دینے سے دوست ملک کی سلامتی میں بہتری آئے گی۔ واضح رہے کہ صدر بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے کا یہ پہلا معاملہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ سمجھوتا دوست ملک سے تعلق اور اس کی سیکورٹی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گا، جو مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور اقتصادی پیش رفت کے لیے ایک اہم قوت ہے۔ حکومت نے یمن میں جنگ بندی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کی قیادت کرنے کا جو عہد کیا ہے، یہ سودا اس سے پوری طرح مطابقت رکھتاہے۔اس طرح سعودی عرب کے پاس ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے فضائی حملوں سے دفاع کے ذرائع موجود رہیں گے۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکی ریاست میساچوسٹس کی ہتھیار بنانے والی کمپنی ریتھیون جدید قسم کے اے آئی ایم 120 سی 7اور سی 8میزائل بناتی ہے،جو درمیانی درجے کے ہوتے ہیں اور فضا سے فضا میں مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ریاض حکومت کو ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری کے بعد اسی کمپنی کو یہ ٹھیکا دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ چند روز قبل ہی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ یمن میں سعودی عرب کے حملوں کی حمایت بند کرنے کے ساتھ ہی اسے ہتھیاروں کی فروخت پر بھی روک لگا دے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کو ہر طرح کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی، تاہم بائیڈن نے اس پالیسی پر نظر ثانی کا اعلان کیا تھا۔ سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے حوالے سے امریکا کو بہت تشویش رہی، تاہم دونوں ملک دیرینہ حلیف بھی ہیں۔ سعودی عرب نے 2015 ء میں اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف عسکری کارروائیاں شروع کی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے