مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل میں انتہائی کٹر یہودی اور ان کے مذہبی قائدین نے عورتوں کے خلاف ایک مظاہرے میں شرکت کی۔ کٹر یہودی اور ان کی سیاسی جماعتیں مسجد اقصیٰ کی مقبوضہ مغربی دیوار کے نزدیک عبادت میں توریت پڑھنے کی مخالفت کررہی ہیں۔ سخت گیر ہزاروں یہود نے خواتین کے اس عبادتی سلسلے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ دیوار براق جسے یہود دیوار گریہ کہہ کر اپنا ناجائز حاق جتانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے نزدیک توریت پڑھنے کی اجازت صرف مردوں کو حاصل ہے اور خواتین ایسا نہیں کر سکتیں۔ 2دہائیوں سے خواتین کی ایک تنظیم ماہانہ عبادت کے لیے اپنی ارکان کے ساتھ مقدس دیوار کے قریب جمع ہوتی ہے۔ اس دیوار کے قریب مردوں کا حصہ علاحدہ ہے اور اسی طرح خواتین کے لیے بھی علاقہ مخصوص ہے۔ ان علاحدہ علاحدہ حصوں میں خواتین اور مردوں کو عبادت کی اجازت ہے۔ دیوار کے قریب خواتین کی عبادت کے تنازع میں شدت رواں برس جون میں اس وقت پیدا ہوئی جب نئی حکومت کی تشکیل ہوئی۔ اس حکومت نے سخت عقیدے کے یہود کی سیاسی جماعتوں کو اپوزیشن بنچوں پر بٹھا دیا۔ ماضی میں الٹرا آرتھوڈوکس یہود کی سیاسی جماعتیں سبھی حکومتوں کا حصہ رہی تھیں۔ نئی پارلیمان کے ایک رکن جو اصلاح پسند رابی ہیں، کا ایک اقدام بھی تنازع کو بھڑکانے کا باعث بنا۔
