English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چشمہ شفاء ۔ 11

القمر

ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبّی مشوروں پر مبنی پروگرام چشمہ شفاء کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ آج ہم آپ سے جس موضوع پر بات کریں گے وہ فنگس  کی بیماری اور اس کا جڑی بوٹیوں کے ذریعے علاج ہے۔

1۔ لہسن

لہسن ، فنگس کو  جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

طریقہ استعمال:

لہسن کے استعمال کا طریقہ یہ ہے  کہ ہر روز 2 سے 3 عدد لہسن کی کچی تورئیاں سلاد میں  شامل کر لی جائیں، کھانے میں ملا لی جائیں یا پھر  دہی میں ملا کر کھا لی جائیں۔ لہسن کو براہ راست جلد پر ملنا خراش  کا سبب بن سکتا ہے ۔ سیدھا جلد پر ملنے کی بجائے  پِسا ہوا لہسن زیتون کے تیل یا پھر کھوپرے کے تیل میں ملا کر اس آمیزے کو  فنگس سے متاثرہ جگہ پر لگا دیا جائے۔ 2 گھنٹے تک اس آمیزے کو متاثرہ جگہ پر لگا رہنے دیا جائے اور اس کے بعد دھو لیا جائے۔ آرام آنے تک دن میں 2 دفعہ اس طریقے پر عمل کیا جائے۔

2۔ ہلدی

ہلدی میں  موجود کرکیومین اینٹی فنگس اثرات رکھتا ہے۔

طریقہ استعمال :

ہلدی کا براہ راست استعمال فنگس  انفیکشن پر زیادہ زود اثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر ہاتھوں یا پاوں پر ظاہر ہونے والے فنگس پر لگانے کے لئے  ہلدی کا سفوف براہ راست متاثرہ جگہ پر لگا لیا جائے یا پھر  پانی میں ملا کر آمیزے کو کریم کی شکل میں متاثرہ جگہ پر لیپ کر دیا جائے۔ آمیزہ خشک ہونے تک لگا رہنے دیا جائے اور تقریباً 15 منٹ کے بعد دھو دیا جائے۔ آرام آنے تک روزانہ اس طریقے کا استعمال کیا جائے۔

ہلدی کے سفوف کو پانی کی جگہ کھوپرے کے تیل میں مِلا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایک چیز کو واضح کرتے چلیں کہ ہلدی کی وجہ سے جلد کا رنگ پیلا ہو سکتا ہے لیکن یہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔ چند دن میں یہ پیلاہٹ دُور ہو جائے گی۔

3۔ سبزیاں

اگر فنگس کی بیماری ہو تو گاجر، مولی، چقندر، آلو شکر قندی جیسی نشاستے کی بلند مقدار والی سبزیوں کے استعمال سے پرہیز کریں۔ ان سبزیوں کی جگہ کم نشاستے والی سبزیاں بروکولی، پھول گوبھی  اور موصلی سفید جیسی تازہ  اور آرگانک سبزیاں اُبلی ہوئی شکل میں استعمال کی جائیں۔ یاد رہے کہ بہت زیادہ میٹھی غذاوں کا استعمال فنگس  کی بیماری میں تیزی پیدا کرتا ہے۔

4۔ سیب کا سرکہ:

سیب کا سرکہ فنگس کی پیدا کردہ خراش میں آرام کے لئے نہایت موئثر ہے۔

طریقہ استعمال :

روئی کا پھاہا لے کر سرکے میں ڈبویا جائے اور فنگس والی جگہ پر لگا دیا جائے۔ اس طریقے کو دن میں 3 دفعہ دُہرایا جائے۔

5۔خمیر والے  دودھ کی مصنوعات

لیکٹک ایسڈ بیکٹیریا اور خمیر  لگے دودھ کی مصنوعات بہترین پری بائیوٹیک شمار ہوتی ہیں۔ لسّی، دہی، پنیر جیس دودھ کی مصنوعات جسم میں مفید بیکٹیریا کی تعداد میں اضافہ کر کے بیماری کے خلاف جسم کو مضبوط بناتی ہیں۔

6۔ نیم کے پتّے

نیم کے پتوں کا عرق جِلد ی بیماریوں میں پیدا ہونے والے بیکٹیریا اور فنگس  کے خاتمے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

طریقہ استعمال:

نیم کے پتّوں کو چند منٹ کے لئے اُبالا جائے۔ محلول ٹھنڈا ہونے پر فنگس سے   متاثرہ جگہ پر لگایا جائے۔

7:  السی  اور چیا کے بیج

السی اور چیا کے بیج پری بائیوٹیک  میں اضافہ کر کے فنگس کی بیماری کے خلاف جسم کی قوت مدافعت  میں اضافہ کرتا ہے۔ السی یا چیا کے بیج سلاد پر ڈال کر یا پھر دہی میں مِلا کر استعمال کئے جا سکتے ہیں۔

8۔ کھوپرے کا تیل

معمولی یا درمیانے درجے کے فنگس کے علاج میں موئثر ثابت ہوسکتا ہے۔

طریقہ استعمال:

کھوپرے کا تیل فنگس والی جگہ پر دن میں 3 دفعہ استعمال کیا جائے۔ آرام آنے کے بعد بھی ایک ہفتے تک استعمال کیا جائے تو آنے والے دنوں میں بھی فنگس کے خطرے کو ختم کرنے میں مددگار ہوگا۔

9: اجوائن کا تیل

اجوائن کا تیل فنگس  کے پھیلاو کا سدّباب کرتا ہے۔

طریقہ استعمال

متاثرہ جگہ پردن میں  3  دفعہ اجوائن کا تیل استعمال کیا جائے۔

10: ٹی  ٹری کے پتّوں کا تیل

ٹی ٹری آئل فنگس کے علاج میں افاقہ دیتا ہے۔ طریقہ استعمال اس طرح ہے کہ کھوپرے کے تیل میں ٹی ٹری آئل  مِلا کر فنگس کے اوپر لگایا جائے۔ یہ طریقہ دن میں 3 دفعہ استعمال کیا جائے۔

11: سرسوں

ایک چمچ سرسوں کے بیج کا تیل  متاثرہ حصے پر لگائیں اور تقریباً آدھے گھنٹے  کے بعد دھو دیں۔ فائدہ حاصل کرنے کے لئے اس طریقے کو ایک یا دو ہفتے تک جاری رکھا جائے۔ سرسوں کے بیج کا پاڈور  بھی پانی کے ساتھ نرم کر کے کریم کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔  خشک ہونے تک لگا رہنے دیا جائے بعد ازاں  دھو کر صاف کر دیا جائے۔

12: پپیتا

پکے ہوئے پپیتے کے ایک ٹکڑے کو فنگس کے اوپر لگایا جائے تو فوری طور پر جلن اور خارش میں افاقہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے