کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے سندھ حکومت کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ضروری اقدامات کرنے کے لیے 6نومبر تک دی جانے والی حتمی تاریخ کے ختم ہونے پر الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت نے اس کی دی گئی حتمی تاریخ کے اندر ضروری اقدامات نہیں کیے اس لیے الیکشن کمیشن خود اپنی آئینی ذمے داری پوری کرتے ہوئے سندھ حکومت کو متعین تاریخ دے اور پابند کرے کہ سندھ حکومت اس تاریخ کو سندھ بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے۔حافظ نعیم الرحمن نے سندھ حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ تاخیری حربے اور ٹال مٹول سے کام لینے کے بجائے فوری طور پر کراچی سمیت سندھ بھر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے اقدامات اور ضروری قانون سازی کرے ، عوام کو ان کے آئینی و جمہوری حق سے محروم رکھنا سراسر غیر جمہوری اور آمرانہ رویہ اور طرزِ عمل ہے جو پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے اختیار کر رکھا ہے ، بلدیاتی اداروں کی مدت پوری ہونے کے بعد آئین میں دی گئی مدت کے دوران بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئین کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات مسلسل زیر التوا رکھ کر عوام کے آئینی اور جمہوری حق پر ڈاکا ڈال رہی ہے ، عوام کو ان کے جائز اور قانونی حق سے محروم کر کے کراچی سمیت پورے سندھ میں وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ نظام کو مسلط کرنا چاہتی ہے، کراچی میں سیاسی اور اپنا پارٹی ایڈمنسٹریٹر لگا کر شہر قائد پر قبضہ کرنے اور بلدیاتی وسائل اور اختیارات کے ذریعے اپنی من مانی کر رہی ہے ، سندھ حکومت اور حکمران پارٹی عوام بالخصوص اہل کراچی سے سخت خوفزدہ ہے اسی لیے وہ بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار نہیں ،نت نئے بہانے اور لیت و لعل سے کام لے رہی ہے ، سندھ حکومت تاخیری حربے استعمال کرنے اور مردم شماری کو بہانہ بنانے کے بجائے فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کرے ۔3 کروڑ سے زاید عوام کے گمبھیر مسائل کے حل کے لیے کراچی میں با اختیار شہری حکومت کا قیام یقینی بنایا جائے ، میئر کا انتخاب براہ راست کرایا جائے اور اس کے لیے موجودہ لوکل باڈی ایکٹ ختم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تمام حکمران پارٹیاں اور حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں بالکل سنجیدہ نہیں ہیں ۔ ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کے لیے گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے کیونکہ حکمران پارٹیوں کی نا اہلی اور ناقص کارکردگی عوام کے سامنے ہے ، عوام ان سے سخت نالاں اور مایوس ہو گئے ہیں ، کراچی مسائل کی آماجگاہ بن گیا ہے ، ملک کے سب سے بڑے شہر میں جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے ، عوام کو پانی تک میسر نہیں ، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، صفائی ستھرائی کی صورتحال انتہائی خراب ہے ، شہر میں ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام موجود نہیں، خواتین ، بچے و بزرگ اور طلبہ و طالبات سمیت لاکھوں شہری روزانہ چنگ چی رکشوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں ، مسائل حل ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہے ہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا اعتراض اور موقف سراسر غلط ہے ، جب اسی مردم شماری اور ووٹر لسٹوں پر کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہو سکتے ہیں تو بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں ہو سکتے ۔ بلا شبہ کراچی میں دوبارہ اور درست مردم شماری از حد ضروری ہے اور ووٹر لسٹوں میں خرابیاں اور خامیاں بھی دور ہونی چاہیے لیکن بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی و قومی ضرورت ہے ، بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسریاں ہیں ، بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو گئی ہے ، سندھ میں ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا بلدیاتی ادارے عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے حکومتی و سرکاری ایڈمنسٹریٹرز کے حوالے ہیں ، مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کو ان کے آئینی و قانونی اور جمہوری حق سے محروم رکھا گیا ہے اب یہ عمل بند ہو نا چاہیے ۔
