کراچی (آن لائن) کراچی میں ڈیری فارمرز نے پھر حکومتی رٹ کو چیلنج کردیا، دودھ کی قیمت 10 روپے فی لیٹر اضافے سے 140 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، ریٹیل سطح پر دودھ کی فروخت 140روپے کے حساب سے شروع کردی گئی ہے، فی لیٹر پر سرکاری قیمت سے 46 روپے زائد کی وصولی کی جارہی ہے، مارچ 2018ء میں سرکاری قیمت 94 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔ ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 4 سال سے دودھ کی قیمت نہیں بڑھ سکی اضافہ ناگزیر تھا۔ کراچی میں دودھ کی کھپت 50 لاکھ لیٹر ہے، ذرائع کے مطابق ڈیری فارمرز ایسو سی ایشن دودھ کی غیر قانونی قیمت کے ذریعے 18 کروڑ روپے یومیہ وصول کر رہی تھی۔ پیرکو ہونے والے 10 روپے کے اضافہ سے یومیہ غیر قانونی وصولیوں کا حجم 23 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ مسابقتی کمیشن نے جون 2021ء میں کراچی میں دودھ کی تجارت میں فارمرز اور ہول سیلرز کی اجارہ داری کا انکشاف کیا تھا۔ مسابقتی کمیشن کے مطابق ڈیری سیکٹر کا کارٹل ملی بھگت سے قیمت مقرر کرتا ہے۔ مسابقتی کمیشن کی تحقیقات کے مطابق 120 روپے لیٹر فروخت سے ڈیری کارٹل نے ایک سال میں 47 ارب روپے کی غیر قانونی وصولیاں کیں۔ واضح رہے کہ ڈیری فارمرز نے ازخود قیمت بڑھا کر سندھ ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے، عدالت نے کمشنر کراچی کو قیمت کے تعین کا حکم دے رکھا ہے۔ ڈیری فارمرز کے کمشنر کراچی سے مذاکرات بھی جاری تھے اور کمشنر کراچی نے دودھ کی قیمت کے تخمینے کیلیے کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے، سفارشات پر اجلاس کے باوجود ڈیری فارمرز نے دودھ مہنگا کردیا ہے۔

