نئی دلی:بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے فرانس سے رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے میں بدعنوانی کے مزید شواہد سامنے آنے پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس پارٹی نے یہ مطالبہ فرانسیسی آن لائن جریدے میڈیاپارٹ کی طرف سے رافیل طیاروں کی فروخت کا 59ہزار کروڑ روپے کا معاہدہ طے کرانے کیلئے فرانسیسی کمپنی دیسالٹ ایویشن کی طرف سے ایک مڈل مین کو 75 لاکھ یورو کمیشن دینے اور اس سلسلے میں جعلی رسیدیں استعمال کرنے کے تازہ انکشافات کے بعد کیا ہے۔
طیاروں کی فروخت کا معاہدہ طے کرانے کیلئے یہ کمیشن 2007سے2012کے درمیان دیاگیا تھا، کانگریس پارٹی نے سوال کیا ہے کہ مودی حکومت اور سی بی آئی نے گزشتہ 36 مہینوں سے بدعنوانی کے ثبوتوں پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ اس معاملے کو کیوں دبایا گیا؟
کانگر یس پارٹی کے لیڈر راہول گاندھی نے پارٹی رہنماﺅں سے کہا کہ وہ بدعنوان بی جے پی حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھیں اور اس سلسلے میں بالکل بھی نہ ڈریں کیونکہ سچائی ہر قدم پر ان کے ساتھ ہے۔
انہوں نے رافیل اسکینڈل کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے کہاکہ میرے کانگریسی ساتھیو بدعنوان بھارتی حکومت کے خلاف اسی طرح لڑتے رہو۔ روکو مت، تھکو نہیںاور ڈرو نہیں۔
ادھر کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے نئی دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت نے قومی سلامتی کو قربان کیا،بھارتی فضائیہ کے مفادات کو خطرے میں ڈالا اور سرکاری خزانے کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔
فرانسیسی میڈیانے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کس طرح مڈل مین سشین گپتا نے 2015میں بھارت کی مذاکراتی ٹیم سے متعلق خفیہ دستاویزات وزارت دفاع سے حاصل کیں اور ان کے بدلے میں فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی سے رشوت لی۔
دستاویزات میں مذاکرات کے آخری دورکے دوران بھارت کے موقف کی تفصیلات شامل تھیں۔کانگریس کے ترجمان نے سوال کیا کہ مودی حکومت اور سی بی آئی نے گزشتہ 36 ماہ سے بدعنوانی کے شواہد پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ اس معاملے کو کیوں دبایا گیا؟ مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں سی بی آئی چیف کو کیوں ہٹایا؟ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ بھارت کوٹیکنالوجی منتقلی کے بغیر 36رافیل طیاروں کے لیے 41ہزار کروڑ روپے اضافی کیوں دیے جارہے ہیں؟
انہوں نے مزید سوال کیاکہ 126طیاروں کے بین الاقوامی ٹینڈر کی موجودگی میں مودی حکومت یکطرفہ طورپر36طیارے آف دی شیلف کیسے خرید سکتی ہے۔

