لاڑکانہ(نمائندہ جسارت) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے کے دعوے کرنے والے وزیراعظم عمران خان طالبان کے حامی ہیں، حکومت کا تحریک لبیک سے خفیہ معاہدہ اور تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات پر آمادگی نیشنل ایکشن پلان پر سوالیہ نشان ہے، وفاقی حکومت کا ٹی ایل پی سے خفیہ معاہدہ اور ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور سیز فائر پرآمادگی سانحہ اے پی ایس کے شہدا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہدا کے ورثا کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے خفیہ معاہدوں کا تصور نہیں ہونا چاہیے، وزیراعظم اور وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل سے فرار ہونا چاہتی ہے اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کرایا جائے، ٹی ایل پی سے معاہدے اور ٹی ٹی پی سے مذاکراتی عمل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ نثار کھوڑو کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر بضد ہوکر الیکشن کمیشن کی آزادی پر حملہ کر رہی ہے، شفاف انتخابات کا انعقاد حکومت کی نہیں الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے، الیکشن کمیشن کو حکومتی دباؤ سے آزاد کیا جائے تاکے ملک میں آزادنہ شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول، بجلی کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کو مسترد کرتے ہیں اضافہ فوری واپس لیا جائے، ٹیرف فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بجلی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کے جیبوں پر ڈاکہ ڈالہ جا رہا ہے، حکومت نے خود کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے، حکومت پیٹرولیم کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کرکے فی لیٹر پر 44 روپے عوام سے کما رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹے، چینی، تیل، گھی دالوں اور سبزیوں کی قیمتیں بڑھ جانے سے عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے، وزیراعظم کا ریلیف پیکیج عوام کے لیے بربادی پیکیج ثابت ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور اس کی قابل ٹیم اپنی ناکامی کا اعتراف کرکے استعفا دیں اور عوام کی جان چھوڑیں، ہم پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر اس عوام دشمن حکومت کو شکست دیں گے، اس حکومت کو ہر فورم پر بے نقاب کریں گے اور وزیراعظم کو ہٹا کر رہیں گے، عوام نئے انتخابات کے لیے تیار ہیں جس دن انتخابات ہوئے عوام اس تبدیلی کو دن میں تارے دکھادیں گے۔
