English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیراعلیٰ کو بلدیاتی نظام میں اصلاحات سے متعلق تجاویز ارسال کردی،حافظ نعیم الرحمن

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ادارہ نورحق میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے وزیر اعلیٰ سندھ کوبلدیاتی نظام میں اصلاحات سے متعلق اپنی تجاویز ارسال کردی ہیں، جس میں کہا ہے کہ بلدیاتی ایکٹ میں کراچی کو میٹر و پولیٹن کارپوریشن کے بجائے میگا سٹی گورنمنٹ کا درجہ دیا جا ئے،میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیادپر براہ راست کرایا جائے،کے ڈی اے،کے ڈبلیو ایس بی،ایم ڈی اے،کے ڈی اے سمیت دیگر ادارے میگا سٹی گورنمنٹ کے حوالے کیے جا ئیں،موٹر وہیکل ٹیکس،جائداد منتقلی ٹیکس،غیر منقولہ جائداد ٹیکس،پراپرٹی ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز جمع کر نے کا اختیار بھی میگا سٹی گورنمنٹ کو دیا جائے۔سٹی پولیس اور ٹریفک پولیس کو بھی میگا سٹی گورنمنٹ کے ماتحت کیا جائے۔صوبے میں تمام شہروں کو بھی بااختیار بنایا جا ئے۔ہر ضلع کے لیے ڈسٹرکٹ میونسپل کمیٹی کا نظام ختم کیا جائے،کراچی 32سب ڈویژنز پر مشتمل ہے، یہاں ٹاؤن کا نظام ہو نا چاہیے۔میگا سٹی گورنمنٹ میں ٹاؤن کو نسل کو10سے 15 ہزار کی آباد ی کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے،تاکہ تمام مسائل نچلی سطح پر بہترین طریقے سے حل ہوں۔پیپلزپارٹی یونیفائیڈ بنیاد پر 60سے 65ہزار پر مشتمل افرادپر یونین کمیٹی رکھنا چاہتی ہے۔جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن میں کراچی کے 3کروڑ سے زاید عوام کا مقدمہ لڑا ہے اور فی الفور بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کیا ہے،پیپلز پارٹی سندھ پر جاگیردارانہ نظام قائم کر نا چاہتی ہے، کراچی کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کی طرف سے بلدیاتی انتخابات میں مسلسل ٹال مٹول کرنے ، الیکشن کمیشن کی سماعت میں شرکت کرنے اور وزیر اعلیٰ کو ارسال کی گئی تجاویز کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرنائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، سیکرٹری کراچی منعم ظفر، سیکرٹری اطلاعات زاہدعسکری ودیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ کراچی اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی راہ میں سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی رکاوٹ ہے، ہم نے الیکشن کمیشن پاکستان کی سماعت میں شرکت کی اور چیف کمشنر الیکشن کمیشن آف پاکستان سے تفصیلی ملاقات بھی ہوئی ہے۔جماعت اسلامی نے کراچی میں بااختیار بلدیاتی نظام اورفوری بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات حوصلہ افزا رہی،الیکشن کمیشن پاکستان بھی کراچی اور سندھ میں فوری بلدیاتی انتخابات چاہتا ہے لیکن اس کی واضح ہدایات کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جارہے۔پیپلز پارٹی کراچی پر جاگیردارانہ نظام مسلط کر نا چاہتی،جماعت اسلامی ایسا ہر گز نہیں ہونے دے گی۔ہم الیکشن کمیشن، اسمبلیوں اورسڑکوں پر احتجاج سمیت ہر جمہوری راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ بلدیاتی ایکٹ کی حدود میں شامل محکمے سٹی گورنمنٹ کے اختیار میں ہونے چاہئیں۔سول ڈیفنس،ماہی گیری،سماجی بہود، انفارمیشن ٹیکنالوجی،فنی تعلیم،اسپتال،چھوٹے بڑے کالجز،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،ضلعی سڑکوں و عمارتوں، ماس ٹرانزٹ سسٹم،انڈسٹریل اسٹیٹ، آئی ٹی پارکس سمیت دیگر محکمے 2021ء میں بلدیات کے ماتحت تھے،اب انہیں میگا سٹی گورنمنٹ کے ماتحت ہونا چاہیے۔ میگا سٹی گورنمنٹ کومختلف اداروں میں 17گریڈ سے اوپر سمیت تمام ملازمین کے تقررو تبادلوں کا اختیار بھی ہونا چاہیے،طے شدہ فارمولے 2002ء کے مطابق،کراچی کے لیے ضلع آکٹرائے ٹیکس میں اصل حصہ بحال کیا جائے،مختلف کونسلوںسے صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) کے اراکین، حکومت کی طرف سے نامزد نہیں بلکہ متعلقہ کونسلوں سے منتخب ہونے چاہئیں، شہری کونسل کے منتخب اراکین کو صوبائی مالیاتی کمیشن کی طرح صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن میں بھی نمائندگی دی جانی چاہیے،سندھ کچی آبادی بورڈ میں کونسلز کے منتخب اراکین کی نمائندگی ان علاقوں کی آبادی کے تناسب سے رکھی جائے،سٹی پولیس کے انچارج سمیت کراچی میگا گورنمنٹ کے محکموں کے سربراہوں کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹیں میگا سٹی گورنمنٹ کے میئر کے دفتر کے زیر اہتمام تیار ہوں، کراچی شہر کی زمینوں سے تمام محصولات، ٹیکس، جرمانے وغیرہ کی وصولی میگا سٹی گورنمنٹ کو واپس کی جائے،مذکورہ بالا مجوزہ اصلاحات کی روشنی میں یہ ایکٹ تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے جماعت اسلامی اپنی تمام تر سیاسی،قانونی اور تکنیکی سپورٹ کے ساتھ سندھ حکومت اور سندھ اسمبلی کی مدد کے لیے تیارہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے