
ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) متحدہ عرب امارات، بحرین، اسرائیل اور امریکا نے بحیرہ احمر میں کثیر ملکی بحری سیکورٹی آپریشنز مشقیں شروع کردیں۔ دونوں خلیجی ممالک کی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ یہ پہلی علانیہ فوجی مشق ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی بحریہ کے ایک افسر نے ان فوجی مشق کے بارے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی سربراہی میں اس طرح کے فوجی تعاون سے خطے میں ایران کے طاقت کے مظاہرے کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گزشتہ برس امریکا کی ثالثی میں کیے گئے ابراہیمی معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ اپنے معمول کے تعلقات قائم کر لیے تھے۔ یہ معاہدے ایران کی جانب سے لاحق مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے اور اقتصادی فوائد کے حصول کی امید میں کیے گئے تھے۔ ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان ویانا میں 29 نومبر کو جوہری مذاکرات شروع ہونے والے ہیں جس میں 2015ء کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ ناکامی کی صورت میں علاقائی کشیدگی میں شدید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔ امریکا کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس 5روزہ جنگی مشق کے دوران یو ایس ایس پورٹ لینڈ جنگی جہاز پر تربیت شامل ہے جس سے شریک افواج کے درمیان بحری سلامتی کے حوالے سے تعاون کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ امریکی کمانڈر وائس ایڈمرل بریڈ کوپر نے بتایا کہ بحری اشتراک سے سمندروں میں نیوی گیشن کی آزادی کی حفاظت کرنے اور تجارت کے آزادانہ بہاو کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
