یورپی یونین کے دیوانِ عدالت نے کہا ہے کہ پولینڈ کے وزیر انصاف نے سبب بتائے بغیر ججوں کی تعزیراتی عدالت میں عارضی تعیناتی اور دوبارہ سبب بتائے بغیر اس تعیناتی کی منسوخی کی اجازت دینے والے قانون کو یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی یونین دیوان عدالت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ اطلاق سے قانون کی خودمختاری کو پامال کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین سپریم کورٹ نے حکم سُنایا ہے کہ عبوری فرائض سے متعلقہ قوانین کے، عدلیہ فیصلوں پر سیاسی کنٹرول کے آلے کے طور پر استعمال کے سدباب کے لئے ضروری ضمانتیں دی جائیں۔
واضح رہے کہ حالیہ ادوار میں، عدلیہ کی خودمختاری، قانون کی بالادستی اور قومی قوانین کے یورپی یونین قوانین سے بالا ہونے یا نہ ہونے سے متعلقہ موضوعات پر، یورپی یونین اور پولینڈ کے درمیان عدم مفاہمت جاری ہے۔
تازہ واقعے میں پولینڈ حکومت کے ججوں کے خلاف ڈسپلن میکانزم قائم کر کے انہیں ” خاموش” کروانے اور قانونی بالادستی کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے یورپی یونین کمیشن نے دیوان عدالت میں درخواست پیش کی تھی۔ عدالت نے ڈسپلن میکانزم کو ختم نہ کرنے کی وجہ سے 27 اکتوبر کو پولینڈ کو یومیہ 1 ملین یورو جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
