ویب ڈیسک —
پاکستان کی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بدھ کو ہو رہا ہے جس میں حکومت انتخابی اصلاحات سے متعلق بلوں سمیت دیگر بلوں کو منظور کرانے کی کوشش کرے گی۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی قانونی سازی روکنے کے لیے حکمتِ عملی طے کر لی ہے۔
صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا یہ مشترکہ اجلاس دن 12 بجے طلب کیا ہے جس کے ایجنڈے میں سرِ فہرست الیکشن ایکٹ ترمیمی بل اور سمندر پار پاکستانیوں کے انٹرنیٹ ووٹنگ سے متعلق بلز ہیں۔
حکومت کی کوشش ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مذکورہ بلوں کو منظور کرا لیا جائے تاہم حزبِ اختلاف کی جماعتیں ان بلوں سے متعلق تحفظات رکھتی ہیں۔
حکومت پرعزم ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بلوں کی منظوری سے وہ سر خرو ہو گی۔ وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کہتے ہیں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا قانون پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے میں بھارت کے مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو کو اپیل کا حق دینے سے متعلق بین الاقوامی عدالتِ انصاف نظر ثانی بل، انسدادِ جنسی زیادتی تحقیقات اور ٹرائل کا بل بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
مردم شماری سے متعلق تحفظات پر مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کا ریفرنس بھی ایجنڈے کا حصہ ہے جب کہ حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنیکل اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے قیام، خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کی روک تھام سے متعلق کریمنل لاء ترمیمی بل اور بچوں کی جسمانی سزا کے تدارک کا بل بھی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔


گزشتہ ہفتے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے انتخابی اصلاحات کے بل کو منظور کرانے کے حکومتی فیصلے پر اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ نے اعلانیہ اعتراضات کا اظہار کیا تھا۔
اتحادی جماعتوں نے انتخابی اصلاحات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے متعلق بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
تحریک انصاف کی حکومت بلوں کی منظوری کے لیے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس چاہتی تھی لیکن اتحادیوں کے تحفظات سامنے آنے کے بعد حکومت نے اس اجلاس کو ملتوی کر دیا تھا۔
اتحادی جماعت (ق) لیگ بلوں کی حمایت پر خاموش
وزیرِ اعظم عمران خان سے اتحادیوں کی ملاقات کے بعد منگل کو ایم کیو ایم نے مشترکہ اجلاس میں شرکت اور حکومتی بلوں کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا۔
ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر امین الحق کہتے ہیں کہ پارٹی کی رابطہ کمیٹی نے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی پر حکومت کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم مسلم لیگ (ق) کی جانب سے حکومت کی حمایت سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے بعض اراکین مشترکہ اجلاس میں شریک ہوں گے تاہم بعض اراکین نے پارٹی قیادت کو شرکت نہ کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔
تحریک انصاف کی اتحادی حکومت کو پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں قلیل اکثریت حاصل ہے جب کہ ایوان بالا میں حزبِ اختلاف اکثریت رکھتی ہے۔
مشترکہ ایوان میں نمبر گیم
سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حکومت و حزب اختلاف کی عددی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو 442 کے مشترکہ ایوان میں قانون سازی کے لیے 222 ارکان کی حمایت یا ایوان میں موجود ارکان کی اکثریت درکار ہو گی۔
اس وقت قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کے اتحادیوں کے ساتھ 180 ووٹ ہیں اور اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے پاس 158 ووٹ ہیں جب کہ جماعتِ اسلامی کے چار اراکین علیحدہ حیثیت میں موجود ہیں۔
سینیٹ کے 100 ارکان پر مشتمل ایوان میں حزبِ اختلاف کو 52 جب کہ حکومت کو 48 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ حزبِ اختلاف کے ایک رکن اسحاق ڈار نے اب تک حلف نہیں لیا ہے۔
عددی اعتبار سے دیکھا جائے تو حکومت کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ 442 کے مشترکہ ایوان میں 228 ارکان کی اکثریت حاصل ہے۔
