ویب ڈیسک —
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی سات خواتین قطر حکومت پر مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان خواتین کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سال دوحہ ایئرپورٹ پر کوڑے کے ڈبے سے اک نوزائیدہ بچہ ملنے پر ان خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر نسوانی نوعیت کے ناگوار طبی معائنے سے گزرنا پڑا۔
گزشتہ سال قطر ایئر ویز کی سڈنی جانے والی پرواز میں تاخیر اور ان خواتین مسافروں کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک پر آسٹریلیا کی حکومت نے قطری حکام کی مذمت کی تھی۔
ان خواتین کے وکیل کے مطابق یہ سات مدعی خواتین ان 13 خواتین میں شامل ہیں جنہیں رن وے پر ناگوار طبی معائنے سے گزرنا پڑا جو ان کی توہین کے مترادف ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو اس وقت جس جسمانی اذیت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جو مستقبل میں بھی ان کے لئے صدمے کا باعث رہا اور وہ اسی وجہ سے ہرجانہ طلب کر رہی ہیں۔ ہرجانے کی رقم کے بارے میں ابھی وضاحت نہیں دی گئی۔
یاد رہے کہ دوحہ کے حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 2 اکتوبر 2020 کو اک نوزائیدہ بچہ ملنے پر نو یا دس مزید فلائٹس بھی التوا کا شکار ہوئی تھیں اور ان فلائٹس پر سوار خواتین مسافروں کے طبی معائنے کئے گئے تھے۔
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی یہ خواتین چاہتی ہیں کہ قطر حکومت ان سے معذرت کرے اور ایسا ضابطہ اخلاق مرتب کرے کہ آئندہ ایسے واقعات نا ہوں۔ یہ خواتین جو تیس سے پچاس سال کے پیٹے میں ہیں ممکنہ طور پر نیو ساؤتھ ویلز کی سپریم کورٹ سے اپنی قانونی کارروائی کا آغاز کریں گی۔
قطر حکومت، سول ایوی ایشن حکام، حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور قطر ایئرلائنز کو قانونی طور پر مطلع کر دیا گیا ہے کہ آسٹریلوی عدالتیں نہ صرف یہ کیس سننے کا اختیار رکھتی ہیں بلکہ ممکنہ طور پر درخواست گزار خواتین یہ مقدمہ جیت بھی جائیں گی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے اس موضوع پر استفسار پر قطر حکومت نے جواب دینے سے انکار کیا ہے۔ تاہم، حکومت کی طرف سے اس جانب نشاندہی کی گئی ہے کہ حکومت پہلے ہی اس معاملے پر معذرت کر چکی ہے اور ذمہ داران کو اس وقت ملک میں قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے۔
دوسری جانب آسٹریلوی پولیس نے شکایت کنندگان کو آگاہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں دوحہ ایئرپورٹ کے ایک پولیس افسر پر جرمانہ اور چھ ماہ کی سزا سنائی گئی ہے۔
خواتین کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر قطر ائرلائن نے ذمہ داری لینے سے انکار کیا ہے جبکہ قطری حکومت خواتین کے دعوے کا جائزہ لے رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی دوسری ریاستوں کی طرح قطر میں بھی بغیر ازدواج کے جنسی تعلقات اور بچوں کی پیدائش غیر قانونی ہے۔ عام طور پر ایسی صورتحال میں دوسرے ممالک سے یہاں کام کی غرض سے آئی خواتین اپنا حمل مخفی رکھتی ہیں اور بچے پیدا کرنے کے لئے ان ممالک سے باہر جاتی ہیں۔ بعض ایسے بھی واقعات دیکھنے میں آئے ہیں جہاں خواتین سزا سے بچنے کے لئے اپنے بچے پیدائش کے فوراً بعد پبلک باتھ رومز یا کسی ویرانے میں چھوڑ گئی ہوں۔
