لاہور ‘ اسلام آ باد (نمائندہ جسارت +آن لائن +اے پی پی +مانیٹر نگ ڈ یسک)سربراہ ٹی ایل پی سعد رضوی کو رہا کردیا گیا جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشر یات فواد چودھری نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی کیس میں ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑا۔حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کی نظر بندی ختم کر کے انہیں رہا کردیا ہے، ان کی رہائی کوٹ لکھپت جیل سے عمل میں آئی ۔کوٹ لکھپت جیل لاہور کے سپرٹینڈنٹ اعجاز اصغر اور ترجمان تحریک لبیک پاکستان ابن اسمعیل نے سعد رضوی کی رہائی کی تصدیق کی۔ گزشتہ ماہ حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ٹی ایل پی کے سیکڑوں کارکنوں کے خلاف درج مقدمات ختم کیے گئے، ٹی ایل پی پر سے پابندی ہٹائی گئی جب کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے سعد رضوی سمیت ٹی ایل پی کے کئی رہنماؤں کے نام فورتھ شیڈول کی لسٹ سے بھی نکالے تھے۔واضح رہے کہ سعد رضوی کو رواں برس اپریل کے وسط میں لاہور پولیس نے حراست میں لیا تھا۔علاوہ ازیںوفاقی وزیر اطلاعات و نشر یات فواد چودھری نے نجی ہوٹل میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کا کام قانون کی عمل داری کو یقینی بنانا ہے لیکن ٹی ایل پی کیس میں ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ فواد چودھری نے کہا کہ حکومت اور ریاست انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کا کنٹرول ختم ہونے پر جتھے قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں، حکومتی رٹ ختم ہوگی تو انتہا پسند حاوی ہوجائیں گے، نکتہ نظر ہر کسی کا حق ہے لیکن کسی پر زبردستی تھوپنا درست نہیں۔انہوںنے کہا کہ ہمیں امریکا، بھارت ، یورپ سے کوئی خطرہ نہیں، ہمیں سب سے بڑا خطرہ اپنے آپ سے ہے،انتہا پسندی کی وجہ مدارس نہیں اسکول اور کالج ہیں جہاں سے انتہا پسندی وجود میں آئی،اسکول، کالجوں میں انتہا پسندی کی تعلیم دینے والے اساتذہ بھرتی کیے گئے اور مقامی انتظامی نظام کو بھی تباہ کردیا گیا۔

