ترقی یافتہ دنیا اب بھی ماحولیاتی چیلنج کی حساسیت کا ادراک کرنے میں ناکام ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے میں منافقانہ طرزعمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
پراجیکٹ سنڈیکیٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ گلاسگو میں سی او پی 26سربراہی اجلاس میں ترقی یافتہ ملکوں کے رہنماں کے بہت سے بیانات ان کی ماحولیات کے حوالے سے اصل پالیسیوں اور دیگر حوالوں میں اقوال سے متصادم ہیں۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ ترقی یافتہ معیشتیں اخراج میں کمی کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہیں اور ترقی پذیر ملکوں کو موسمیات کے حوالے سے مالی مدد کرنے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔اس مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی تنگ نظری کی حکمت عملی آخر کار کسی کے لئے بھی فائدہ مند نہیں ہے، اس میں وہ بھی شامل ہیں جن کے طاقتور کاروباری مفادات کے فوری مالی مفادات کو یہ پورا کرنے کے لئے کام کرتے ہیں ۔

