جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہا ہے کہ اقوا م متحدہ،
اوآئی سی اور یورپی یونین مقبوضہ جموں وکشمیر میں مظا لم بند کروائے، حکومت پاکستان او آئی سی کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں منعقد کرے جس کا ایجنڈا صرف کشمیر ہو، نریندرمودی مقبوضہ جموں وکشمیر میں آگ اور خون کی حولی کھیل رہا ہے، ریاست جموں وکشمیر کو عملاً دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کررکھا ہے، مقبوضہ کشمیر میں مزید ہندوستانی فوج کو تعینات کیا جارہا ہے ہندوستان کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کررہا ہے بین الاقوامی برادری آگے بڑھ کر اپنا مطلوبہ کردار ادا کرے، ان خیالات کااظہار
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہاکہ بین الاقوامی برادری اپنے وعدے کے مطابق کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خودارادیت فراہم کرے، سرینگر اور کولگام میں درجنوں کشمیریوں کو شہید کردیا مال واسباب کو لوٹا جارہا ہے، کشمیر بینک سمیت دیگر انتظامی امور کی پوسٹوں سے مسلمانوں کو ہٹا کر انتہا پسندہندوئوں کو تعینات کیا جارہا ہے 50لاکھ سے زائد غیر ریاستی آر ایس ایس کے انتہا پسند ہندوئوں کو ڈومسائل جاری کیے جارہے ہیں اسرائیل طرز پر بستیاں بسانے کے منصوبے پر گامزن ہے ریاست جموں وکشمیر کی ڈیموگرافی کو تبدیل کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کی جارہی ہے عالمی برادری ہندوستان کے مجرمانہ فعل کے تدارک کے لیے اپنا مطلوبہ کردار ادا کرے ،کشمیری اپنے پیدائشی حق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں یہ حق اقوام متحدہ کا چارٹر انہیں فراہم کرتا ہے آزادی کی اس جدوجہد میں 5لاکھ سے زائد شہداء پیش کیے ہیں آزادی سے کم کوئی حل قبول نہیں کریں گے ۔
