English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غیر جمہوری سیٹ اپ قبول نہیں کریں گے،چیف جسٹس

لاہور:چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے عدلیہ پر اداروں کا دباؤ ہونے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ عدالتیں آزاد نہیں اور اداروں کے دباؤ میں کام کررہی ہیں،ہم ایک حلف کے پابند ہیں ،غیر جمہوری سیٹ اپ قبول نہیں کر یں گے ،میں نے کبھی کسی ادارے کا دباؤ نہیں لیا اور نہ کبھی کسی کی بات سنی، مجھے نہ کسی نے گائیڈ کیا اور نہ ہی میں نے ڈکٹیشن لی کہ میں اپنا فیصلہ کیسے لکھوں، میں نے کبھی کسی کے کہنے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو آج تک مجھے کچھ کہنے کی جرات ہی ہوئی،میں نے ہمیشہ انصاف اورضمیر کے مطابق فیصلے کیے، عدالت جو فیصلہ کرنا چاہتی ہے کرتی ہے کسی کی مرضی سے نہیں کرتی، آج تک کسی کی ہمیں روکنے کی ہمت نہیں ہوئی،لوگوں میں غلط
فہمیاں پیدا نہ کریں، انتشار نہ پیدا کریں اور اداروں سے بھروسہ نہ ختم کریں ، بتائیں کس کی ڈکٹیشن پر کون سا فیصلہ ہوا ہے ،عدالت عظمیٰ،ہائی کورٹس، ماتحت عدالتوں کے تمام ججز محنت سے کام کرکے عوام کو انصاف فراہم کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزلاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔چیف جسٹسنے کہا کہ عدالت عظمیٰ فیصلے کرنے میں آزاد ہے ،ہمیں روکنے کی آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی اور کسی کے کہنے یا کسی ادارے کے دبا ئوپر میں نے کبھی کوئی فیصلہ نہیں دیا، کسی نے کبھی میرے کام میں مداخلت نہیں کی، کوئی مجھے گائیڈ نہیں کرتا کہ اپنا فیصلہ کیسے لکھوں،یہی کردار باقی تمام ججز کا ہے ، پوری عدلیہ تندہی سے لوگوں کے فیصلے کررہی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ علی احمد کرد صاحب نے اگر میری عدالت کے بارے میں کوئی بات کی تو میں اس بات کو بالکل قبول نہیں کروں گا، میری عدالت میں جج انتہائی تندہی کے ساتھ ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے علی احمد کرد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ شائع ہونے والے فیصلوں کو پڑھیں اور دیکھیں کہ کیسے عدالت عظمیٰ آزادانہ طور پر کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کسی نے میرے کام میں مداخلت نہیں کی، میں نے ہمیشہ انصاف اورضمیر کے مطابق فیصلے کیے، عدالت جو فیصلہ کرنا چاہتی ہے کرتی ہے کسی کی مرضی سے نہیں کرتی، عدالتیں بغیر کسی دبا ئوکے کام کررہی ہیں، اپنے فیصلوں کے لیے کسی کی ڈکٹیشن لی نہ لوں گا، میری عدالت لوگوں کو انصاف دیتی ہے،عدالتیں انصاف وقانون کے مطابق کام کر رہی ہیں اور جو فیصلہ کرنا چاہتی ہیں وہ آزاد ہیں۔چیف جسٹس نے علی احمد کرد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عدالتوں کے فیصلے پڑھنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بغیردبائو کے کام کرتے ہیں اورکرتے رہیں گے،پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہے انسانوں کی نہیں،ملک میں آئین و قانون اور جمہوریت کی حمایت کرتے رہیں گے، کسی بھی غیر جمہوری سیٹ اپ کو قبول نہیں کریں گے،ہم عہدہ چھوڑ دیں گے، پہلے بھی چھوڑا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کہیں غلط توکہیں درست فیصلے آتے ہیں،ہر ایک کو اختلاف رائے کا حق ہے لیکن اپنے اختلاف کو ثابت کریں،یہی ہماری عدلیہ کی خوبصورتی ہے۔عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب میں کہا کہ آئین 2درجن سے زاید انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کرتا ہے جبکہ پاکستان میں آزادی صحافت، معلومات تک رسائی اور لڑکیوں کی تعلیم سمیت خواتین کے حقوق کو خطرات کا سامنا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جمہوریت کی بھیک نہیں مانگیں بلکہ یہ حق ہے کہ آپ جمہوریت کا مطالبہ کریں اور حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے کہ سب سے افضل جہاد ظالم کے سامنے حق بات کرناہے۔انہوں نے ایک فیصلے کا حوالہ دے کر کہا کہ اگر وزیر اعظم قومی نشریاتی ادارے پر بطور پارٹی لیڈر بات کرتا ہے تو اپوزیشن کو بھی اس کا پورا حق ہے اور اگر اپوزیشن کو یہ موقع فراہم نہیں کیا جاتا تو امتیازی سلوک یا رویہ ہے۔ قبل ازیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے خطاب میں کہا کہ عدلیہ کو تاریخی فیصلوں پر فخر ہونا چاہیے اور غلطیوں کا اعتراف بھی کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 2007 ء میں وکلا نے تاریخی تحریک کی قیادت کی، یہ تحریک ججز کی بحالی کی نہیں آزادی اور جمہوریت کے لیے تھی۔ان کا کہنا تھا کہ آزادی کے بعد 1954ء میں تمیزالدین خان کیس عدلیہ کا پہلا امتحان تھا جس پر عدلیہ کو فخر ہونا چاہیے۔جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر جسٹس منیر کی سربراہی میں وفاقی عدالت نے تمیزالدین کیس کا فیصلہ واپس نہ لیا ہوتا تو اس ملک کا مستقبل مختلف ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈوسو کیس، نصرت بھٹو کیس اور ظفر علی شاہ کیس عدلیہ کی تاریخ کا حصہ ہیں جس کو ہم مٹا نہیں سکتے، ان فیصلوں نے غیر جمہوری طاقتوں کو مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو دباؤ میں آکر پھانسی کی سزا سنانا ادارے کے لیے باعث شرمندگی ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ملک کی تاریخ موڑنے میں عدلیہ کا کردار اہم تھا جس سے ہم آنکھیں نہیں پھیر سکتے، ملکی تاریخ کا نصف دور آمریت میں گزرا، غاصبانہ حکومتوں نے بنیادی حقوق اور آزادی چھین لی تھی۔انہوں نے کہا کہ غلطیوں کا اعتراف بہتری کی جانب پہلا قدم ہے، میڈیا، سول سوسائٹی اور عدلیہ کو مل کر انصاف کے نظام کو بہتر بنانے کی جدوجہد کرنا ہوگی ۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا آزاد نہیں ہوگا تو عدلیہ بھی آزاد نہیں ہوگی لیکن میڈیا کو ذمے دار ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے نمائندے کی حیثیت سے یہ عزم کرتے ہیں کہ اپنی غلطیاں نہیں دہرائیں گے، ہماری ذمے داری ہے کہ اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کریں ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے