English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا طبل جنگ بج چکا ہے؟

القمر
سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آئین پوری وضاحت سے بیان کرتا ہے دو ٹوک کہتا ہے مقدس وہ ہی ہے جو آئین کی پاسداری کرے، آئین کی دیواریں پھلانگنے والا آئین کا مجرم ہے،ملک کا غدار ہے۔  سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نے انسانی حقوق کی ممتاز وکیل عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ “آج کے جبر اور گھٹن زدہ ماحول میں ان کی بہت کمی محسوس ہو رہی ہے۔ عاصمہ جہانگیر ایک تحریک کا نام ہے انہوں نے زندگی کی آخری بات فون پر مجھ سے کی تھی۔” نوازشریف نے کہا کہ اعلی عدلیہ کے جج فون کال پر سزائے دلواتے ہیں، ان حالات میں ملک کیونکر برباد نہیں ہوگا،کیا عدالتوں نے فوجی ڈکیٹیٹروں کو آئین میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی۔ کیا عدلیہ نے فوجی ڈکیٹیٹروں کو آئین کو کاغذ کا ٹکڑا کہنے پر روکا گیا۔فیصلہ کرنا ہے کیا اندھے گونگے بہرے بن کے رہنا ہے کیا ہم بھیڑ بکریاں ہیں۔
اس سے قبل سینیر ایڈوکیٹ علی احمد کرد نے بھی انہی حقائق پر بات کی۔  علی کرد نے جب اپنی تقریر میں ’ایک جرنیل، ایک جرنیل، ایک جرنیل‘ کہا تو ان کے ساتھ کانفرنس میں دیگر وکلا نے نعرے بازی شروع کر دی۔ علی کرد نے بات کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ایک جرنیل 22 کروڑ عوام پر حاوی ہے۔ یا تو اس جرنیل کو نیچے آنا پڑے گا یا لوگوں کو اوپر جانا پڑے گا۔ دو ہی صورتیں ہیں۔۔۔ تب برابری ہو گی۔‘ وکلا رہنما کرد کے مطابق پاکستان کی عدلیہ کو ’رول آف لا انڈیکس‘ میں 126ویں نمبر پر ’جرنیلوں نے پہنچایا ہے۔ اس سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ضرورت ہے جو ستر سال سے آنکھیں دکھا رہا ہے۔‘ مگر پھر چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے خطاب کے دوران کہا کہ وہ علی احمد کرد کے موقف سے متفق نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ‘کبھی کسی ادارے کی بات سنی اور نہ کبھی ادارے کا دباؤ لیا، مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ فیصلہ کیسے لکھوں، کسی کو مجھ سے ایسے بات کرنے کی کوئی جرات نہیں ہوئی۔ ’کسی نے میرے کام میں مداخلت نہیں کی، اپنے فیصلے اپنی سمجھ اور آئین و قانون کی سمجھ کے مطابق کیے۔
یہ بات تو درست ہے کہ  ہم اس ملک میں انصاف کی فراہمی کی بات کرتے ہیں لیکن پاکستان کا عام شہری تو انصاف کے حصول کیلئے تھانے جانے کے قابل بھی نہیں ہے۔ اگر پاکستان میں واقعی سب کا محاسبہ ہو رہا ہوتا تو اور عدالتیں اتنی ہی کھلی ہوتیں تو انھیں عتیقہ اوڈھو کی چار بوتلیں شراب نظر نہ آتیں۔ انھیں نظر آتا کہ اس ملک سے احسان اللہ احسان کیسے بھاگ گیا، انھیں نظر آتا کہ اس ملک میں لاپتا افراد کی تعداد کیوں بڑھتی جا رہی ہے۔ سعد رضوی راتوں رات کالعدم جماعت سے کیسے بدل گیا۔ ریاست نے ایسے بندے کو چھوڑ دیا جس کے کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو مارا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک پاکستان میں دو دو انصاف کیوں ہیں اور یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟ کیا علی کرد کے مطابق یہ ملک ریت کی طرح مٹھی سے پھسل رہا ہے؟ بہر حال جو کچھ علی احمد کرد اور نواز شریف نے کہا وہ حکومت اور عدلیہ کو ہلانے کے لیے کافی ہے۔
انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اس کانفرنس میں نواز شریف کو مدعو کرنے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جب کانفرنس کے منتظمین ایک مجرم کو خطاب کے لیے بلاتے ہیں تو ان کا سیاسی ایجنڈا واضح ہوجاتا ہے۔ یہ افسوس ناک ہے‘ ۔ اس سے پہلے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں یہ کہتے ہوئے کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی تھی کہ ’مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ جب مجھے بتایا گیا ہے کہ کانفرنس کا اختتام ایک مفرور ملزم کی تقریر سے ہو گا۔ ظاہر ہے یہ ملک اور آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ میں نے کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے‘ ۔شیریں مزاری انسانی حقوق کی وزارت سنبھالے ہوئے ہیں۔ انہیں ملک کے سابق وزیر اعظم اور اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو مجرم قرار دینے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا۔ انسانی حقوق کی وزیر کے طور پر وہ صرف سرکاری موقف سامنے لانے والوں کی آزادی کی محافظ نہیں ہیں بلکہ اس ملک کے سب انسانوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ان کے فرائض منصبی کا حصہ ہونا چاہیے۔
نواز شریف کو دعوت دینے پر کانفرنس میں شرکت سے انکار کر کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی یہی ثابت کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ملک میں کسی بھی قسم کے اختلاف کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ وہ دلیل اور حجت سے سیاسی موقف پیش کرنے اور اس پر جوابی رائے کا موقع دینے کی بجائے دوسروں پر الزام تراشی کے ذریعے مکالمہ کا ماحول ختم کرنے کے درپے ہے۔ فواد چوہدری مختلف مواقع پر خود کو روشن خیال اور ایک ایسے متوازن معاشرہ کے حامی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جہاں سب کو اپنی بات کہنے اور اپنے طریقے سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ مذہبی انتہاپسندی کے حوالے سے انہوں نے کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار دو روز پہلے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی کیا تھا لیکن وزیر اطلاعات کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود وہ ملک میں آزادی اظہار کی ضمانت فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے نواز شریف کے خطاب کے دوران انٹرنیٹ منقطع کر دیا گیا تھا حتیٰ کہ موبائل نیٹ ورک کو بھی بلاک کر دیا گیا تھا حالانکہ یہ کانفرنس شہر کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی۔ بار بار کوشش کے بعد منتظمین نے ٹیلی فون پر نواز شریف کا آڈیو خطاب سامعین کو سنایا۔ سرکاری ادارے میڈیا کی طرف سے اس بارے میں پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے سے احتراز کر رہے ہیں اور سرکاری نمائندے چور چور کا شور مچا کر آزادی رائے پر اس بھیانک سرکاری حملے کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران مقررین نے کسی کی ذات پر حملہ نہیں کیا جو اس ملک کے وزیر اعظم اور ان کے حواریوں کا معمول ہے۔ بہر حال اسٹیبلشمنٹ سے عدلیہ اور اب عوام بھی یہ بات جانتے ہیں کہ اس ملک پر ایک مصنوعی حکومت قائم ہے ۔ جب تک عوام کو یہ حق نہیں دیا جاتا تب تک لوگ للکارتے رہیں گے اور اداروں پر طنزو تنقید بھی کرتے رہیں گے۔
پیر، 22 نومبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا طبل جنگ بج چکا ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے