English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سویلین حکومت کی بحالی : سوڈان کا اب اگلا قدم کیا ہوگا؟ شفقنا بین الاقوامی

القمر
سوڈان کے نظر بند رہنما عبداللہ ہمدوک اور اعلی فوجی قیادت ایک سیاسی معاہدے پر پہنچ گئی ہے۔معاہدے کے تحت ملک کا اقتدار سول حکومت کو دوبارہ منتقل کردیا گیا تھا، سول حکومت کو 25 اکتوبر کو ختم کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے شمالی افریقی ملک کو دوبارہ ہنگامہ آرائی کا سامنا تھا۔ تاہم اس معاہدے میں مددگار نیشنل فورس ، فوجی حکومت کی مخالف قوتوں بشمول فورسز فار فریڈم اینڈ چینج پر ناراض ہے۔ یاد رہے کہ اس گروہنے 2019میں ہمدوک کو اقتدار میں لایا تھا۔ اس گروہ کا کہنا تھا کہ باغیوں کے ساتھ نہ تو بات چیت ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی معاہدہ۔ نیشنل فورس فوجی بغاوت سے قبل ہمدوک حکومت کا حصہ تھی۔ جب سےدو سال قبل ایک انقلاب کے نتیجے میں سابق آمر عمر البشیر کو اقتدار سے بے دخل کیا تھا تب سے سوڈانی سیاست نشیب و فراز کا شکار ہے۔
جب کہ حالیہ مظاہرے  عمر بشیر کی حکومت کو گرانے کے لیے بنیادی قوت تھے تاہم پھر بھی سابق آمر جنرل عبدالفتح البرہان اقتدار سویلین قیادت یعنی ہمدوک کے حوالے کرنے پر تیار نہ تھے۔اگرچہ فریقین نے 2019 مئں طاقت کی تقسیم کے معاہدے پر دستخط کیے تھے ، تاہم برہان جو کہ مختاری کونسل کے سربراہ تھے وہ مقررہ وقت کے مطابق اقتدار سویلین قیادت کو لوٹانے پر خوش نہ تھے۔ اسی لیے  25 اکتوبر کو فوجی بغاوت کے بعد عبداللہ حمدوک کی کابینہ کا خاتمہ کر کے متعدد حکومتی اور سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور وزیر اعظم کو ان کے گھر پر نظر بند کر دیا تھا۔ تاہم نظر بند ہمدوک اور جمہوریت کے حامی حلیفوں نے اس کو رد کیا کیوں کہ سوڈانی عوام اس بغاوت کے خلاف نکل کھڑی ہوئی تھی۔مختلف میڈیا خبروں کے مطابق ان مظاہروں میں 40 کے قریب افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
ان پرامن مظاہروں پر فوجی تشدد سے کئی مظاہرین خون میں نہا گئے تاہم دوسری جانب ہمدوک اور ان کے مشیر باغی فوجی حکمرانوں سے ملک کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ برہان نے اس بات کا عندیہ دیا ہے ہ وہ ہمدوک کو وزیر اعظم کی کرسی پر بحال کرنا چاہتے ہیں مگر اپنی بقا کی جنگ لڑنے والے وزیر اعظم نے طاقت میں واپسی کے لیے بعض مطالبات رکھے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ معاہدے کے لیے فوج کو تین شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ان میں اول ، تمام سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی ہے ۔ دوسرا، 2019 میں ہونے والے تمام آئینی اقدامات کو بحال کیا جائے بشمول ان تمام شقوں کے جنہیں برہاں نے تبدیل کیا تھا۔ مزید برآں وہ فوج کو سویلین حکومت کے ماتحت لانا چاہتے ہیں۔ ہمدوک کا کہنا تھا کہ اگر فوج یہ تین شرائط پوری نہیں کرتی تو وہ اس معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے تاہم موجودہ معاہدے سے یہ بات کہیں ثابت نہیں ہوتی کہ ہمدوک نے ان شرائط کو مکمل طور پر منوا لیا ہے۔

معاہدہ کیا ہے

پوری دنیا میں ایسے واقعات بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں جہاں  خود ہی نکالی گئی سویلین حکومتوں کو بحال کر دیا گیا ہو۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر انہوں نے ایک سویلین حکمران کا تختہ الٹ دیا تو پھر اس کو بحال کیوں کر دیا۔ موجودہ سوڈانی صورتحال میں اس سوال کا جواب واضح نہیں ہوسکتا۔ عام طور پر فوجی بغاوت کے بعد سیاسی رہنماؤں کو سیاسی منظر نامے سے مکمل طو رپر غائب کر دیا جاتا ہے یا پھر جمہوریت پسند قوتیں باغی جنرلوں کو شکست دے کر انہیں کٹہرے میں لانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔  مگر سوڈان کے معاملے میں باغی اور برطرف وزیر اعظم مل کر کام کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔ پس سوال یہ ہے کہ آخر ان کے مابین معاہدہ کیا ہے؟
اس معاہدے کے مطابق ، پہلا قدم تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ہے بشمول احتجاج کرنے والے افراد کے۔ اقتدار میں واپس آنے کے لیے حمدوک کی یہ شرط تھی ۔اس معاہدے میں ایک کمیٹی کا قیام ہے جو فوجی بغاوت کے نتیجے میں ہونے والے احتجاجوں کی تحقیقات کرے گی۔ اس معاہدے کی دوسری شرط فوج حمدوک کی کابینہ کے اراکین کو واپس انہیں پوزیشنوں پر کام کرنے کی اجازت دے گی۔ اور تیسراتمام پیرا ملٹری گروپس جیسا کہ ریپڈ سپورٹ فورس جو کہ فوج کے شانہ بشانہ کام کرتی ہے ایک واحد فوجی کنٹرول میں کام کرے گی۔

اہم حصہ

دیگر شرائط کے ساتھ اس معاہدے کی چوتھی شق اہم ترین ہے اور وہ یہ ہے کہ ملک کے بہت سارے فوجی بغاوت کے مخالف گروہ اس معاہدے کے خلاف ہیں۔ معاہدے کا یہ حصہ کہتا ہے کہ طاقت کے تقسیم کے معاہدے کے بعد سوڈان کے عبوری آئین میں اس شق کو تبدیل کیا جائے تو جہ فوجی جرنیلوں اور سویلین حکومت کے مابین تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ اہم حصہ اس بات پر روشنی نہیں ڈالتا کہ کیا حمدوک حکومت ان آئینی شقوں کو بحال کر سکتی ہے یا نہیں جن کو فوجی آمر برہان نے تبدیل کر دیا تھا۔ اس کی جگہ اس معاہدے میں آئین میں ترمیم کی بات کی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ فوج حمدوک کی سویلین حکومت سے رعایتیں چاہتی ہے۔
منگل، 23 نومبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post سویلین حکومت کی بحالی : سوڈان کا اب اگلا قدم کیا ہوگا؟ شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے