English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مالدیپ کی عوام بھارتی فورسز کو ملک سے کیوں نکالنا چاہتی ہے؟ شفقنا خصوصی

القمر
مالدیپ سے بھارتی فوجیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں نے دارالحکومت مالے شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا مارچ میں شریک ہزاروں لوگوں نے مالدیپ سے بھارتی فوجیوں کو ہٹانے اور بھارت کے ساتھ فوجی معاہدے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔یہ پرامن مظاہرےجن کا مرکز دارالحکومت مالے ہے۔ ان مظاہروں کا اہتمام اپوزیشن کی متحد جماعتوں نے کیا جن کی سربراہی 2019 میں جیل میں ڈالے گئے سابق مالدیپی صدر عبداللہ یمین کر رہے ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت مالدیپ کا قریبی حلیف ہے جو کہ چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ایک ملک ہے اور جسے موسمی تبدیلیوں سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ حکومت مخالف جماعت پیپلز نیشنل کانگریس کے نائب رہنما محمد سعید کا کہا ہے کہ ، حکومت یہ مصیبت ہمارے ساحلوں تک لے آئی ہے۔ ہم بھارتی عوام کے خلاف نہیں ہیں ۔ ہماری عوام صرف بھارتی فوج کا انخلا چاہتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم بہت کمزور ملک ہیں  اور ہم کسی دوسرے ملک کی فوج کی اپنے ملک میں موجودگی کو نہیں سہار سکتے۔ مالدیپ جنوبی ایشیاکے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں چین اور بھارت اثرورسوخ کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جس کے نتائج خطے کے لیے بہت گہرے اور وسیع ہوسکتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں صدر ابراہیم محمد صالح پر الزام عائد کرتی ہیں کہ انہوں نے نئی دہلی کے ساتھ خفیہ معاہدہ کر رکھا ہے جس کے تحت بھارتی افواج مستقل طور پر مالدیپ میں تعینات رہ سکتی ہیں۔ جب کہ مالدیپی حکومت اپنی خودمختاری پر سمجھوتے کے کسی بھی معاہدے سے انکار کرتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ بھارت کے ساتھ سیکورٹی معاہدے کا مقصد صرف سرچ اور ریسکیو آپریشن میں مدد ہے۔
مالدیپ حکومت نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ بھارت مالدیپ کا قریبی حلیف ہے جو کہ ہر محاذ پر مالدیپ کی عوام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ حکومت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے سرچ اینڈ ریسکیو، ساحلی نگرانی، سمندری نگرانی اور اموات سے بچاؤ جیسے معاملات پر تعاون حاصل ہے۔ مالدیپ کے وزیر خارجہ عبداللہ شاہد کا کہنا تھا کہ بھارت فوج کے انخلا کا مطالبہ درحقیقت سیاسی مقاصد کے حصول کی ایک کوشش ہے۔ اس تمام بحث کا مرکز درحقیقت مالدیپی کوسٹ گارڈکے لیے بھارتی فنڈنگ سے تیار ہونے والا ڈاک یارڈ ہے جو کہ مالے کے قریب جزیرہ ادو تھلا فلہو ( یو ٹی ایف) پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ یو ٹی ایف معاہدے کی کاپی اس سال میں لیک ہوگئی جس کے مطابق بھارتی فوجی وہاں تعینات ہوں گے اور آںے والے کئی برسوں میں اس ڈاک یارڈ کو استعمال کر سکیں گے۔

بھارتی دستے مالدیپ میں کیا کر رہے ہیں؟

مالدیپ میں بھارتی فوج کی موجودگی جس پر اپوزیشن شور مچا رہی ہے درحقیقت مالدیپ بیرونی مداخلت کی عکاس ہے۔ نئی دہلی نے مالدیپ کو دو ہیلی کاپٹرز اور ایک ڈونیر ائیر کرافٹ عطیہ کیا تھا جس کا مقصد سمندری نگرانی اور طبی انخلا تھا ۔ اس وقت مالدیپ میں تعینات 75 بھارتی وہاں ان ائیر کرافٹس کی دیکھ بھال اور ان کو درست رکھنے کے لیے تعینات ہیں۔  حکومتی مؤقف ہے کہ بھارتی فوج ایک طویل عرصے سے مالدیپ میں ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں اور ان ک کام تنہا جزائر سے بیماروں کو ائیر لفٹ کے ذریعے اٹھانا ہے اور ان کو طبی سہولیات کے مراکز تک پہنچاناہے۔  تاہم اپوزیشن کے احتجاجوں نے حکومت کو سخت مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ گزشتہ ہفتے مالدیپ کی وزیر دفاع ماریا دیدی کو عوامی سطح پر اس بات کا اعلان کرنا پڑا کہ مالدیپ میں بھارتی دستے غیر مسلح ہیں اور ہماری خود مختاری کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

دو قوتوں کا ٹکراؤ

سابق صدر یمین جنہوں نے 2013 سے 2018 تک حکومت کی ، چین کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہی مالے اور جزیرہ ہالہمبل کے مابین 1۔2 کلومیٹر لمبے چار لائنوں والے پل کا افتتاح کیا۔ یہ واحد پل ہے جس کے ذریعے جزیرہ نما مالدیپ کے مختلف جزائر کاآپس میں رابط ہے وگرنہ لوگ زیادہ تر کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ بیجنگ نے اس پروجیکٹ کے لیے 200 ملین ڈالر کی رقم فراہم کی تھی۔
یمینی کے دور میں ہی چین اور مالدیپ نے فری ٹریڈ معاہدہ کیا جس میں ٹیرف کا خاتمہ کرتے ہوئے مالدیپ کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ مچھلی اور دیگر خدمات چین کو برآمد کر سکتا ہے۔ مالدیپ جو کہ اپنے ریونیو کا بڑا حصہ سیاحت سے حاصل کرتا ہے جن میں سے بیشتر چینی ہوتے ہیں ۔ اس وقت چینی سرمایہ کاری کا مرکز ہے۔ چین نے حال ہی میں مالدیپ کو ائیر بورٹ اور پلوں کی تعمیر کے لیے اربوں ڈالر دیے ہیں ۔ لیکن جب سے صالح کی حکومت اقتدار میں آئی ہے اس نے یمینی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مالدیپ کو چینی ڈیبٹ ٹریپ میں پھنسا دیا ہے۔

بھارت کے لیے ایک طویل سفر

 یمینی کے وزیر خزانہ محمد سعید نے چینی خسارے کی خبروں کو ہمیشہ بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سے جو رقم ہم نے قرض لی تھی وہ تقریبا اتنی ہی تھی جتنی ہم مشرق وسطٰی سے سنڈیکیٹ قرض کے طور پر لے رہے ہیں۔ ہم نے ہر معیشت کے ہر سستے زریعے کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ مالدیپ کی معیشت کا انحصار چونکہ سیاحت پر ہے مگر بہت سارے جزائر مختلف ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان راستہ نہیں ہے جس سے نوکریوں کے مواقع کم ہیں۔
سعید کا کہنا ہے کہ سنامالے پل جسے چین مالدیپ دوستی پل بھی کہا جاتا ہے کا مقصد اس طرح کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ اگرچہ بھارت نے مالدیپ کے بڑے معاشی سپورٹر کے طور پر جگہ لینے کی کوشش کی ہے مگر ابھی اس کے لیے اسے طویل سفر طے کرنا ہے۔ گزشتہ برس بھارت نے قرض اور گرانٹ کے طور پر مالدیپ کے لیے  500 ملین ڈالر کی امداد کاو عدہ کیا تھا مگر ابھی تک اس رقم کا صرف 17 ملین ڈالر ہی خرچ کیا جاسکا ہے ۔ سعید کا کہنا تھاکہ جب ہم اقتدار میں تھے تو تب اپوزیشن جماعتوں نے یمینی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے 17 جزیرے چین کو فروخت کر دیے ہیں مگر آج وہ ایک بھی ایسا جزیرہ ثابت نہیں کرسکتے جو ہم نے چین کو بیچا ہو۔
یمینی دورحکومت میں مالدیپ کا معاشی معاملات کے لیے چین پر انحصار بھارت کے لیے پریشان کن تھا کیونکہ بھارت نے ماضی میں بھی مالدیپ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کھیل جاری رکھا ہے۔ اور اپنی مرضی سے حکومتوں کو بدلنے اور لانے کا کام بھی کیا ہے جبکہ مختلف حکومتوں کو کمزور کرنے میں بھی بھارت نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ 1988 میں بھارت نے سابق صدر مامون عبد القیوم کو جنہیں سری لنکا کے تامل ٹائیگرز کی جانب سے تختہ الٹنے کا خطرہ تھا بچانے کے لیے بحری جنگی جہاز اور اپنے پیرا ٹروپرز بھیجے تھے۔
اس بات کا امکان کم ہے کہ بھارت مالدیپ میں اپنے دستوں کو برقرار رکھ کر مالے کے ساتھ اپنے تعلقات کو داو پر لگائے گا۔ سیاسی اور سفارتی طور پر نئی دہلی مالے کو تزویراتی پارٹنر سمجھتا ہے۔ تاہم بھارت اپنی سرحدوں کے باہر دستوں کی تعیناتی کے بارے بہت محتاط ہےاس لیے اس سطح پر ابھی سب پیشن گوئیاں ہیں۔
بدھ، 24 نومبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post مالدیپ کی عوام بھارتی فورسز کو ملک سے کیوں نکالنا چاہتی ہے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے