English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا ثاقب نثار جوابدہ نہیں ہیں؟

القمر
فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ کے لئے احمد نورانی کی رپورٹ کے بعد سے ملک بھر میں ایک تہلکہ مچا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک آڈیو انہیں موصول ہوئی ہے جس میں وہ کسی شخص کو ہدایات دیتے سنے جا سکتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سزائیں دینی ہیں۔ اس آڈیو کال کو امریکہ کی ایک فورنزک کمپنی گیرٹ ڈسکوری نے فورنزک کے بعد درست قرار دیا تھا۔ فیکٹ فوکس کے مطابق فورنزک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ آواز ثاقب نثار کی ہی تھی اور یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتا تھا کہ اس آڈیو میں کوئی ایڈٹنگ نہیں کی گئی۔
اگرچہ حکومتی مؤقف یہی ہے کہ یہ ٹیپ جعلی ہے مگر فرانزک رپورٹ اور پھر کئی سینیر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیپ درست ہے۔ سینیر ایڈووکیٹ علی احمد کرد نے کہا ہے کہ ثاقب نثار کو میں تو کیا سارا پاکستان جانتا ہے۔ ممکن ہے کہ میں اس معاملے میں غلط ہو سکتا ہوں، مگر جس طرح سے انہوں نے اپنا دور گزارا، یہ آڈیو بالکل درست اور ان ہی کی ہے۔ یہ بات انہوں نے نجی چینل کیساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اب اسی معاملے کو لے کر حکمران جماعت اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان لفظی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آڈیو ٹیپ منظر عام پر آنے کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم کیخلاف کیسوں کو ختم کر دیا جائے۔
یاد رہے کہ 2014 کی بات ہے، اس وقت تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی نے دھرنے کے دوران پارٹی عہدے سے استعفیٰ دیا اور ایک دھماکے دار پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کے دھرنے کا مقصد اور کچھ نہیں صرف نواز شریف کو حکومت سے بے دخل کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ میاں صاحب کو عدالت کے ذریعے نااہل کروا دیا جائے گا۔ اس وقت بیشتر مبصرین نے انہیں سنجیدہ نہیں لیا اور بعض نے انہیں عمران خان کو بدنام کرنے کی سازش بھی قرار دیا۔ تاہم حالات نے ان کی پیش گوئیاں درست ثابت کیں۔ میاں صاحب کو پانامہ کے پس منظر میں بوگس بنیادوں پر نااہل کروا دیا گیا اور نہ صرف یہ بلکہ تاعمر کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا گیا، اگرچہ فیصلے کا یہ حصہ قطعی طور پر انتقام پر مبنی نظر آتا ہے۔
فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن اور ملک میں سویلین بالادستی کے حامی طبقے کی یہی رائے رہی کہ میاں صاحب کے خلاف فیصلہ بدنیتی کے تحت کیا گیا جس میں مقتدرہ کے اعلیٰ عہدیدار ملوث تھے۔ اس کا تاثر مقدمے کی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے واقعات سے بھی مضبوط ہوا جب احتساب عدالت میں ایک حاضر سروس کرنل کو دیکھا گیا اور یہ پتہ چلا کہ پانامہ کیس کے لیے تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کو واٹس ایپ کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ فیصلہ ہونے کے بعد ثبوت کسی کے پاس بھی نہیں تھے۔ اور پھر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آئی جس میں انہیں گفتگو کرتے دیکھا گیا کہ کس طرح انہیں ایک ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کر کے میاں صاحب کے خلاف فیصلہ دینے پرمجبور کیا گیا۔ چند ہفتوں کے بعد بات آئی گئی ہو گئی اور پھر ارشد ملک صاحب کورونا کے باعث انتقال کر گئے۔
ابھی کل کی ہی بات ہے، موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد ایک تقریب میں ڈائس پر مکے مار کر قوم کو یقین دلا رہے تھے کہ عدلیہ آزاد ہے اور کسی میں جرات نہیں کہ انہیں خاص فیصلوں پر مجبور کر سکے۔ لیکن ان کے امتحان کا وقت زیادہ ہی جلدی آ گیا ہے۔ ان کے اپنے سابق چیف کی تصدیق شدہ آڈیو مارکیٹ میں آ چکی ہے جو ان کے بلند بانگ بیانات کی پوری پوری نفی کر رہی ہے۔ منتخب وزیراعظم اور ان کی بیٹی کے خلاف کیے گئے فیصلے داغ دار ہو چکے ہیں۔ عمران خان کو صادق و امین قرار دینے والے خود جھوٹے قرار پا چکے ہیں۔ یہی موقع ہے چیف جسٹس صاحب کے لیے کہ وہ سوموٹو لے کر فریقین کو طلب کریں، آڈیو کی مزید جانچ کا حکم دیں اور ثاقب نثار صاحب سے جواب طلبی کریں کہ انہوں نے کس بنیاد پر ایک منتخب وزیراعظم کا ساتھ دینے کی بجائے ایک ریاستی اہلکار کی بات ماننے کا فیصلہ کیا اور ایک آئینی حکومت کے خلاف سازش کا حصہ بنے۔
بدھ، 24 نومبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا ثاقب نثار جوابدہ نہیں ہیں؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے