کراچی: نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی مالیاتی ادارے کے نرغے میں پھنس چکا ہے اور کاروباری برادری اور عوام کے لئے ہر آنے والا دن زیادہ مشکل ہوگا، منی بجٹ معمول بن جائیں گے جبکہ عوام کسی قسم کے ریلیف یا کسی اچھی خبر کے لئے ترس جائیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زاہد حسین نے کہا کہ چارماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات سے چھ ارب ڈالر کمانے والے ملک کاآئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر حاصل کرنے کے لئے روپے کی قدرمیں چودہ فیصد کمی اوربجلی، پٹرول اور گیس سمیت ہرچیز کی قیمت میں زبردست اضافہ عام لوگوں کی سمجھ سے بالا تر ہے۔
زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ملکی آمدنی کم اوراخراجات اتنے زیادہ بڑھا دئیے گئے ہیں کہ قرضے اتارنے کے لئے نئے قرضوں کا حصول ہی واحد آپشن رہ گیا ہے، کئی دہائیوں سے ٹیکس کا سارا بوجھ ان ڈائریکٹ ٹیکس کی شکل میں غریب عوام اٹھا رہے ہیں اوراشرافیہ ہرممکن طریقہ سے ٹیکس کی ادائیگی سے اجتناب کر رہی ہے جس نے ملک کو کمزوراورپھردیوالیہ کرڈالا ہے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ اشرافیہ کو پاکستان کی جگ ہنسائی اوراقتصادی تباہی تومنظور ہے مگر ٹیکس دینا منظورنہیں جس نے ملک کوبھکاری بنا ڈالا ہے، پاکستان میں ہرقسم کے ٹیکسوں کی شرح اتنی زیادہ اور قوانین اتنے مشکل رکھے گئے ہیں کہ لوگ ٹیکس ادا کرنے کے بجائے ٹیکس چوری کوترجیح دیتے ہیں۔

