نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں ہندو انتہاپسند تنظیموں نے اپنی شرانگیزی جاری رکھتے ہوئے متھرا کی تاریخی عید گاہ میں بھگوان کی مورتی رکھنے کا اعلان کردیا۔ یہ تنظیمیں اس تاریخی مسجد کے مقام پر بھی مندر بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ بھارت میں سخت گیر نظریات کی حامل ہندو تنظیموں ایک بار پھر سے ریاست اتر پردیش میں تاریخی شاہی عید گاہ میں بھگوان شری کرشن کی مورتی رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد حکام نے پورے علاقے میں دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بعض ہندو رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ہندو تنظیموں نے مغل بادشاہ اورنگ زیب کے دور میں تعمیر ہونے والی تاریخی عیدگاہ میں 6دسمبر کے روز مورتی رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ 1992ء میں 6 دسمبر کے دن ہی ہندوؤں نے بابری مسجد کو بھی مسمار کر دیا تھا جہاں اب ایک مندر تعمیر ہو رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ہندو تنظیموں کے اعلان کے تناظر میں امتناعی احکامات کے تحت دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت 4افراد سے زیادہ کے اجتماع پر پابندی عائد ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نوین سنگھ چہل کا کہنا تھا کہ متھرا میں کسی بھی شخص کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہندو تنظیم نارینی سینا کے ایک رہنما امت مشرا کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ چہل کے مطابق انہوں نے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس میں شاہی عیدگاہ اور اس کے پاس بنے مندر کی سیکورٹی کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا ہے۔ حکام کے مطابق سب سے پہلے اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا نامی تنظیم نے مسجد کے اندر مجسمہ رکھنے کی درخواست دی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد اتوار کے روز ایک اور ہندو تنظیم نارینی سینا نے مسجد کو وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک مارچ کا اعلان کر دیا۔ہندو مہا سبھا کا کہنا تھا کہ 6دسمبر کے دن پہلے شاہی عید گاہ کو گنگا کے پانی سے صاف کیا جائے گا اور پھر اس کے بعد اس میں بھگوان شری کرشن کا کی مورتی رکھی جائے گی۔ 1992ء میں 6 دسمبر کے دن ہی ہندوؤں نے بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا اور اسی مناسبت سے اس دن کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ہندو تنظیموں کا بھونڈا دعویٰ ہے کہ ان کے بھگوان کرشن اسی عید گاہ والے مقام پر پیدا ہوئے تھے اور بقول ان کے پہلے وہاں ایک مندر تھا۔ تاہم جب پولیس نے مہا سبھا کو اجازت نہیں دی، تو نارینی سینا نے مسجد کو وہاں سے ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ ایک احتجاجی جلوس کا اعلان کر دیا، جس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور سیکورٹی میں اضافے کا اعلان کیا گیا۔
