English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خالدہ ضیا کی جان کوخطرہ ہے ، معالجوں کا اظہار تشویش

القمر

 

 

ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلادیش میں بیمار اپوزیشن رہنما اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اگر انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دی گئی تو ان کی جان کو خطرہ ہے۔موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی سخت مخالف 76 سالہ خالدہ ضیا کو جگر کی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے۔ان کے ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ انہیں گزشتہ 2ہفتوں میں 3 بار انٹرنل بلیڈنگ (جسم کے اندر خون بہنے) کا سامنا رہا تھا۔ان کے ڈاکٹر فخرالدین محمد صدیقی نے اپنے گھر پر رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں پر جسم کے اندر خون بہنے کو کنٹرول کرنے اور روکنے کے لیے وسائل اور ٹیکنالوجی نہیں ہے۔اس موقع پر ان کے ساتھ ان کی میڈیکل ٹیم میں 4 دیگر ڈاکٹر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا 50 فیصد امکان ہے کہ خالدہ ضیا کو اگلے ہفتے میں ایک بار پھر خون بہنے کا سامنا کرنا پڑے گا اور 70 فیصد امکان ہے کہ یہ اگلے 6 ہفتوں میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ خون کے بہاؤ پر قابو پانے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس صورت میں ان کی موت کا خطرہ زیادہ ہے۔ اگر ہم مریض کی جان بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ٹی آئی پی ایس کرنے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ ٹی آئی پی ایس ایک جدید ترین طبی طریقہ کار ہے جو اندرونی سطح پر خون کے بہاؤ کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ صرف ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکا، برطانیہ اور جرمنی میں دستیاب ہے۔خالدہ ضیا کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے صرف 5 ماہ بعد 13 نومبر سے ڈھاکا کے ایک اسپتال کے کریٹیکل کیئر یونٹ (سی سی یو) میں ہیں۔ تاہم مرکزی اپوزیشن پارٹی کی رہنما کو عدالت نے 2018ء میں بدعنوانی کے الزامات میں سزا سنائے جانے کے بعد ملک چھوڑنے سے روک دیا تھا۔ان کی حالت بگڑنے پر ان کی پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے