English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ساڈانی وزیراعظم استعفے پر تیار

القمر

خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان کے عبوری وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے فوجی سربراہ عبدالفتاح برہان کے ساتھ ہونے والی ساز باز ناکام ہونے اور سیاسی جماعتوں کی حمایت نہ ملنے کی صورت میں عبداللہ حمدوک نے عہدہ چھوڑنے کا عندیہ دے دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق وزیر اعظم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ حمدوک گزشتہ ہفتے فوج کے ساتھ طے شدہ سیاسی معاہدے پر عمل کرانے یاسیاسی دھڑوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہنے کی صورت میں اپناعہدہ چھوڑدیں گے۔ عبداللہ حمدوک کو فوج نے 25 اکتوبرکو اقتدارپر قبضے کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹادیا تھا اور خرطوم میں ان کے گھر میں نظربند کردیا تھا ، لیکن 4ہفتے کے بعد 21 نومبر کو طے شدہ معاہدے کے تحت انھیں رہا کرکے وزارت عظمیٰ کے منصب پربحال کردیا تھا۔فوج کے حکومت پرقبضے کے اقدام سے سابق مطلق العنان صدرعمرالبشیرکی حکومت کوگرانے میں شریک فوج اور سیاسی گروپوں کے درمیان 2019ء میں طے شدہ شراکت اقتدارکا معاہدہ بھی ختم ہوگیا تھا۔ ان سیاسی گروپوں نیاس نئے معاہدے کو مسترد کردیا ہے اورمزاحمتی کمیٹیوں نے اس کے خلاف احتجاجی مہم کا اہتمام کیا ہے۔ اس معاہدے میں آرمی چیف ہی کو خودمختار کونسل کا نگران مقررکردیا گیا ہے حالانکہ یہ عہدہ عوامی نمایندوں کو ملنا چاہیے تھا۔ منگل کے روز خرطوم میں احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی اور وہ شراکت اقتدار کے معاہدے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ سابق مطلق العنان صدر عمرحسن البشیر کے خلاف دسمبر 2018 ء میں احتجاجی مہم کا آغازہوا تھا۔اب ان مظاہروں کے آغاز کی سالگرہ پردسمبر میں مزید مظاہروں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ بغاوت کے بعد ہونے والا معاہدہ فوج کے حق میں ہے۔ اس معاہدے کے تحت عبداللہ حمدوک کو ٹیکنو کریٹس پر مشتمل نئی کابینہ تشکیل دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ معاہدے میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی تحقیقات پر زوردیاگیا ہے ، جس میں طبی عملہ کے مطابق 43 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب عبداللہ حمدوک نے ایک حکم نامہ بھی جاری کیا ہے،جس کے تحت بیشتر نگران نائب وزرا کوہٹا دیا گیا ہے۔ انہیں فوج نے بغاوت کے بعد مقرر کیا تھا ، لیکن اس فرمان میں خزانہ ، وفاقی حکمرانی اور اطلاعات کی وزارتیں شامل نہیں ہیں۔اس سے قبل سوڈانی ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی نے بتایا کہ منگل کے روز مظاہروں کے دوران میں 98 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ مختلف واقعات کے دوران 44 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ فوجی بغاوت کے بعد گرفتار ہونے والے بیشترسرکردہ سیاستدانوں کو رہا کردیا گیا ہے ،تاہم بیشتر اب بھی زیرحراست ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے