شکاگو (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں 2گرجا گھروں نے اسرائیل کو نسل پرست ریاست قراردینے کے لیے رائے شماری کی ۔ ریاست شکاگو میں قرارداد پر رائے شماری میں حصہ لیتے ہوئے اسرائیلی ریاست کے اقدامات کو گرجا گھروں کی اقدار اور اصولوں کے منافی قرار دیا۔ رائے شماری کے دوران 72 فیصد افراد نے اسرائیل کو گرجا گھروں کے خلاف اور نسل پرستانہ طرز عمل پرچلنے والا ملک قرار دیا۔ ایپسکوپل چرچ کونسل نے کانفرنس کے دوران قرار داد پر رائے شماری کی منظوری دی تھی۔ اس سلسلے میں چرچ کونسل کو شدید دباؤ کا سامنا بھی رہا۔ خبررساں اداروں کے مطابق چرچ کونسل کے امریکا میں تقریباً 20 لاکھ ارکان ہیں، جن میں سے تقریباً 3لاکھ شکاگو میں رہتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اٹلانٹا میں پریسبیٹیرین چرچ کی ایک ذیلی کانفرنس نے ایک قرارداد پر ووٹ دیا گیا تھا، جس میں اسرائیلی مظالم کو نسل پرستی کے زمرے میں لانے کے لیے ایک اصطلاح وضع کرنے غور کیا گیا تھا۔ کانفرنس کے ارکان کی اکثریت نے 95 فیصد کے ساتھ اس فیصلے کی حمایت کی۔دوسری جانب ارجنٹائن میں قائم فلسطینی سفارت خانے کے باہر سیکڑوں مقامی شہریوں نے فلسطینی قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے علامتی طورپر فلسطینی شہریت کی درخواست دے دی۔ یہ اقدام فلسطینی قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طورپر کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ارجنٹائن کے انسانی حقوق گروپ اور فلسطینی سفارت خانے کے تعاون سے کی گئی ۔ اس دوران مظاہرین نے فلسطینی شہری بننے کے مطالبے پر مبنی نعرے بھی لگائے۔ فلسطینی سفارت خانے کے باہرمقامی شہریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں،پارلیمان کے نمایندوںکی بڑی تعداد مظاہرے میں شامل تھی۔
