ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سیالکوٹ: توہین مذہب کے الزام میں ہجوم نے سری لنکن فیکٹری مینجر کو جلا کر قتل کر دیا

پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں ایک انتہائی افسوس ناک واقع پیش آیا جہاں توہین مذہب کے الزام میں ہجوم نے سری لنکن فیکٹری مینجر کو جلا کر قتل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ میں مبینہ طور پر توہین مذہب اور گستاخی پر نجی فیکٹری راجکو انڈسٹری کے جنرل مینیجر کو مشتعل افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

مشتعل مظاہرین نے تشدد کرتے وقت لبیک لبیک کے نعرے لگائے ، مشتعل افراد کے تشدد سے سری لنکا سے تعلق رکھنے والا جنرل مینیجر پریانٹا کمارا ہلاک ہوگیا۔ ہلاک کرنے کے بعد مشتعل ہجوم نے نعش کو انتہائی بے رحمی سے جلا دیا۔

مشتعل افراد نے فیکٹری کا گراؤ کر لیا جبکہ وزیر آباد روڈ ٹریفک کے لئے بند کر دیا۔

وزیر آباد روڈ پر فیکٹری مینجر پر تشدد اور ہلاکت کا معاملے پر آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔ آئی جی نے آر پی او گوجرانوالا کو فوری موقع پر پہنچنے کا حکم دے دیا۔

آئی جی پنجاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈی پی او سیالکوٹ موقع پر موجود ہیں،واقعہ کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کی جائے۔

دوسری جانب حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان علماء کونسل سری لنکن منیجر کے قتل کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں غیر ملکی منیجر کا قتل افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں سری لنکن منیجر کو قتل کرنے والوں کا عمل غیر اسلامی اور غیر انسانی ہے۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ توہین ناموس رسالت و توہین مذہب کا قانون موجود ہے ، سری لنکن منیجر پر حملہ کرنے والوں نے اس قانون کی بھی توہین کی ہے، مجرمین کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں