English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

38 ممالک میں اومیکرون موجود ہے لیکن اموات کی کوئی رپورٹ نہیں دیکھی، ڈبلیو ایچ او

القمر

عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ 38 ممالک میں اومیکرون کی تشخیص ہوئی ہے لیکن عالمی وبا کورونا وائرس کی نئی قسم سے اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہوئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے ’اب تک اومیکرون سے متعلق اموات کی کوئی رپورٹ نہیں دیکھی‘۔

کورونا وائرس پر ڈبلیو ایچ اور ٹیکنیکلی سربراہی کرنے والی ماریہ وان کیرکوف کاکہنا تھا کہ دنیا کے 38 ممالک میں اومیکرون سے متعلق کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، کورونا وائرس کا یہ ویرینٹ اب ڈبلیو ایچ او کے تمام 6 خطوں میں پھیل رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ انہیں اومیکرون کی متعدی شدت اس کی ویکسین کی تعین میں کئی ہفتے لگیں گے۔

تاہم،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس دان اس وائرس سے متعلق جواب دے سکیں گے۔

ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر برائے ہنگامی امور کے مائیکل ریان نے کہا کہ ’ہم وہ جواب حاصل کرنے جا رہے ہیں جن کی تلاش یہاں موجود ہرشخص کو ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ابھی سائنس پر بھروسہ کرتے ہوئے صبر کرنا چاہیے اور خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے‘۔

ماریہ وان کیرکوف نے سماجی میڈیا کے ناظرین کا بتایا کہ تجویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویرینٹ تیزی سے منتقل ہورہا ہے، لیکن اس کی واضح تصویر سامنے میں آنے میں کچھ وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ طلبا کی جانب سے وائرس کی شدت کے حوالے سے آنے والی رپورٹ نوجوان افراد میں بیماری منتقل ہونے کا رجحان کم ہے۔

ماریہ وان کیرکوف کا کہنا تھا کہ اومیکرون کیسز کی تشخیص زیادہ تر مسافروں میں ہوئی ہے، اور وہ افراد کو بیماری میں مبتلا ہیں انہیں جہازوں میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’بہت جلد‘ ہم اومیکرون کی شدت کے حوالے سے نتائج تک پہنچ جائیں گے۔

مائیکل ریان کا کہنا ہے کہ ویکسین کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او نے زور دیا کہ موجودہ ویکسینز کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’فی الحال جو ویکسینز استعمال کی جارہی ہیں انہیں تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘ ۔

مائیکل ریان نے بتایا کہ ’اس بات کی حمایت کا ثبوت نہیں ہے لیکن اس معاملے پر میں بہت کا ہورہا ہے کہ اگر ہم ویکسینز تبدیل کریں گے تو ہم اسے کیسے تبدیل کرسکتے ہیں فی الحال ویکسین لگوانا ہی آپ کے لیے بہترین حل ہے‘۔

یاد رہے ڈبلیو ایچ او کو اومیکرون کی پہلی رپورٹ 24 نومبر کو جنوبی افریقہ سے موصول ہوئی تھی ،جب ایک معروف لیباٹری نے تصدیق کی تھی کہ کیس کی تشخیص 9 نومبر کو حاصل کیے گئے نمونوں سے ہوئی تھی۔

ماریہ وان کیرکوف نے کہا کہ وائرس کا نیا ویرینٹ نومبر میں حاصل کردہ نمونوں سے دریافت ہوا ہے اس کا مطلب ہے کہ ممکنہ طور پر اس سے قبل بھی افریقہ کے باہر کچھ کیسز پائے گئے ہوں گے۔

گزشتہ 60 روز میں گلوبل سائنس انیشی ایٹیو کے تحت حاصل کیے گئے نمونوں میں 99.8 فیصد ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز کی تشخیص ہوئی ہے۔

ماریہ نے کہا کہ ڈیلٹا ویرینٹ نے دنیا میں گردش کرنے والے دیگر وائرس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اب ہمیں دیکھنا ہے کہ اومیکرون کا کیا اثرات ہوں گے۔

اومیکرون بظاہر کورنا کی بہت زیادہ متعدی قسم ہے، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنسدان نے کہا ہے کہ کورونا کی نئی قسم اومیکرون ممکنہ طور پر دنیا بھر میں ڈیلٹا کو پیچھے چھوڑ دے گی کیونکہ یہ بہت زیادہ متعدی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کی روک تھام کے لیے کسی مختلف ویکسین کی ضرورت شاید نہ ہو۔

یہ بات ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنسدان ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن نے رائٹرز نیکسٹ کانفرنس کے موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اومیکرون دیگر اقسام کے مقابلے میں معمولی شدت والی بیماری کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے اس نئی قسم کے ماخذ کے بارے میں بھی شبہات اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یقین سے کہنا مشکل ہے کہ اومیکرون قسم افریقہ کے جنوبی حصے سے ہی ابھری۔

انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن ہے کہ یہ ڈیلٹا کی جگہ بالادست قسم بن جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے پیشگوئی کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں کووڈ کے 99 فیصد کیسز ڈیلٹا کا نتیجہ ہیں۔

سومیا سوامی ناتھن نے جنوبی افریقہ میں کیسز کی تعداد میں روزانہ دگنا اضافے کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اومیکرون بہت زیادہ متعدی ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں کتنا فکر مند ہونا چاہیے؟ تو ہمارا جواب ہے کہ ہمیں تیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے، پریشان ہونے کی نہیں، کیونکہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں اب ہم ایک مختلف صورتحال سے گزر رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنسدان نے کہا کہ عالمی ادارہ اس مرحلے پر یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ اومیکرون ایک معمولی بیماری والی قسم ہے، حالانکہ اس وقت زیادہ تر کیسز میں علامات کی شدت کم ہے یا علامات ظاہر ہی نہیں ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اینٹی باڈیز کی افادیت پر اومیکرون کے اثرات کے بارے میں ابھی ٹھوس شواہد موجود نہیں اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ نئی قسم ماضی کی بیماری سے بننے والی قدرتی مدافعت پر جزوی طور پر قابو پالیتی ہے، مگر ویکسینز بظاہر مؤثر نظر آتی ہیں۔

سومیا سوامی ناتھن نے کہا کہ ویکسینیشن کرانے والے افراد بیمار نہیں ہوئے، یعنی ویکسینز تھفظ فراہم کررہی ہیں اور ہمیں توقع کرنی چاہیے کہ یہ تھفظ برقرار رہے گا۔

انہوں نے موجودہ ویکسینز کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت کے حوالے سے کہا کہ موجودہ ویکسین کی اک اضافی خوراک ممکنہ طور پر اومیکرون کے خلاف کافی ثابت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہے کہ ویکسینز کام کرتی رہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کو ابتدا میں مدافعتی ردعمل کو بڑھانے کے لیے ایک اضافی خوراک کی ضرورت پڑے۔

ہر سال کووڈ ویکسین کی ایک خوراک کی ضرورت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او تمام منظرناموں کے لیے تیاری کررہا ہے، جس میں اضافی خوراک بھی شامل ہے، مگر قدرتی بیماری بھی بوسٹر کی طرح ہی کام کرتی ہے۔

سومیا سوامی ناتھن نے ویکسینز کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ویکسینز تک رسائی میں نا انصافی اور کورونا کی نئی اقسام بننے کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔

منبع: ڈان نیوز

The post 38 ممالک میں اومیکرون موجود ہے لیکن اموات کی کوئی رپورٹ نہیں دیکھی، ڈبلیو ایچ او appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے