English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عدالت عظمی نے سندھ میں 25 ہزار روپے کم ازکم اجرت کیخلاف حکم امتناع دیدیا

القمر

عدالت عظمی نے سندھ میں 25 ہزار روپے کم ازکم اجرت کیخلاف حکم امتناع دیدیا۔جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سندھ میں کم از کم اجرت 25 ہزار روپے مقرر کرنے کےخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے حکم امتناع دیتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹسز جاری کردیے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کم از کم اجرت کے مقرر طریقہ کار پر معاونت کریں.واضح رہے کہ  سندھ کابینہ نے  جون کے مہینے میں یہ احکامات جاری کیے تھے کہ مزدوروں کی کم از کم اجرت 25 ہزار روپے مقرر کی جائے تاہم نجی صنعت کی جانب سے دائر درخواست پر سندھ کی عدالت عالیہ نے کم از کم اجرت 25ہزار برقرار رکھی تھی ،جسکے بعد مدعی نے عدالت عظمی میں اپیل دائر کردی  .ان کے وکیل کا موقف ہے کہ سندھ کی مقرر کردہ کم از کم اجرت کا طریقہ کار آئین کے منافی ہے. اگر عدالت نے حتمی فیصلے میں حکم امتناع واپس لے لیا تو درخواست گزار تمام مہینوں کی اجرت ادا کریں گے، کیس کی سماعت تین رکنی بنچ کے سامنے مقرر کی جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ صوبائی خود مختاری کی بات بھی تو کی جاتی ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت جنوری 2022 تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے 25 ہزار روپے کم از کم اجرت برقرار رکھی تھی جس کے خلاف نجی صنعت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے