نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) نیویارک میں قائم’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کی رپورٹ کے مطابق 2021ء میں دنیا بھر میں ریکارڈ تعداد میں صحافیوں کو جیلوں میں بند کیا گیا۔ 293صحافیوں میں سے سب سے زیادہ صحافیوں کو چین اور میانمر میں گرفتار کیا گیا۔ اس رپورٹ میں بھارت اور میکسیکو کو صحافیوں کے لیے سب سے مہلک ترین ممالک قرار دیا گیا ہے۔ رواں برس بھارت میں 4صحافیوں کو قتل کیا گیا، جبکہ میکسیکو میں 3صحافی قتل ہوئے۔ جمعرات کے روز جاری ہونے والی سی پی جے کی سالانہ رپورٹ کے مطابق چین میں 50، میانمر میں 26، مصر میں 25، ویتنام میں 23 اور بیلاروس میں 19 صحافی اس وقت بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ اسی طرح کئی صحافی سعودی عرب، ایران، ترکی، روس، ایتھوپیا اور اریٹیریا میں بھی قید ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقید صحافیوں کی تعداد سے پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں آزادانہ رپورٹنگ کے حوالے سے عدم برداشت کا رویہ پیدا ہو رہا ہے۔سی جے پی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں رواں سال 293 صحافیوں کو قید کیا گیا۔ گزشتہ سال یہ تعداد 280 تھی۔ سی جے پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جوئل سیمون نے کہا کہ سی جے پی مسلسل 6 سال سے دنیا بھر میں جیل بھیجے جانے والے صحافیوں کا ریکارڈ تیار کر رہی ہے۔ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ خبر نشر کرنے یا عوام کو آگاہی فراہم کرنے پر جیل بھیجنا آمریت کی علامت ہے۔سی جے پی 40 سال سے صحافیوں کے قتل، گرفتاری، تشدد اور انہیں دھمکانے کے عمل کی مذمت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال اس فہرست میں ممالک کو دیکھنا تکلیف دہ ہے ۔
