English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا ٹی ٹی پی مذاکرات کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے؟

القمر
کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے یکطرفہ طور پر گذشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ان فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا جن پر اتفاق ہوا تھا۔ گذشتہ رات کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے میڈیا کو جاری پیغام میں جنگ بندی ختم کرنے کے فیصلے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا کہ’حکومت پاکستان کی جانب سے اس ایک ماہ میں مذاکرات کی کامیابی کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئیں اس لیے جنگ بندی جاری رکھنا اب ممکن نہیں ہے۔’ حکومت پاکستان کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ بی بی سی نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے بھی اس معاملے پر رابطہ کیا لیکن ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اس کے بعد کالعدم تحریک طالبان اور حکومت پاکستان دونوں کی جانب سے مذاکرات کی تصدیق کی گئی اور گزشتہ ماہ ٹی ٹی پی نے جنگ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے یکطرفہ طور پر گزشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ان فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا جن پر مزاکرات کے دوران اتفاق ہوا تھا۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کی جو وجوہات بیان کی گئی ہیں ان میں قیدیوں کی رہائی نہ ہونا، عسکری کارروایوں کا جاری رہنا اور حکومت پاکستان کی جانب سے رابطوں کا فقدان شامل ہیں۔ حکومت اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے ایک ماہ مکمل ہونے پر طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 25 اکتوبر کو افغان طالبان کی ثالثی میں ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے نمائندوں کا اجلاس ہوا۔ ‘اس اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
ٹی ٹی پی کے ساتھ مصالحت کے حوالے سے سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ حکومتی حلقوں میں کافی عرصہ سے اس بارے میں کھچڑی پکتی رہی ہے لیکن عوام یا پارلیمنٹ کو کسی موقع پر یہ آگاہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد ، پاک فوج کی طرف سے بار بار قومی سلامتی کے تمام تقاضے پورے کرنے کے اعلانات کے باوجود آخر چند ہی ہفتے میں حکومتی عہدیداران کو تحریک طالبان کو عام معافی اور اس کے جنگجوؤں کو ایک نیا موقع دینے کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس بارے میں سب سے پہلے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بات کی تھی۔ اس کے بعد کابینہ کے ارکان چہ میگوئیاں کرتے دکھائی دیے ۔ اکتوبر کے شروع میں وزیر اعظم عمران خان نے ایک ترک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنگجو عناصر کو عام معافی دینے کا واضح اعلان کیا تھا۔
 ٹی ٹی پی کے عناصر اور قیادت نہ صرف افغانستان میں موجود ہے بلکہ کابل حکومت ان کی ہمدردی اور سرپرستی سے دست بردار ہونے پر آمادہ بھی نہیں ہے۔ طالبان کی حکومت نے ٹی ٹی پی کو اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ وہ پاکستان جیسے دوست اور ہمدرد ملک کے خلاف دہشت گردی اور جنگجوئی کی کارروائی بند کردے اور پر امن طریقے سے اس گروہ کو ختم کردیاجائے تاکہ کابل اور اسلام آباد وسیع تر علاقائی اور عالمی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کام کرسکیں۔ اس کے برعکس افغان حکومت نے حکومت پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرے اور ان عناصر کو عام معافی دینے کی تیاری کرے جو گزشتہ بیس سال کے دوران 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔
ہر پاکستانی حکومت کسی نہ کسی طریقے سے ہمیشہ پاکستانی قوانین کو شرعی بنانے کی بات کرتی رہی ہے اور پاکستانی آئین میں بھی اس کا ذکر موجود ہے لہذا حکومت کا خیال ہوگا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں بھی شریعت نافذ کرنے کا وعدہ کرلینا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ لیکن ان مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل اور اب ٹی ٹی پی کی طرف سے جنگ بندی کے خاتمہ کے اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ قبائیلی علاقوں کی حیثیت اور سنگین جرائم میں ملوث دہشت گردوں کو معافی دینے کا معاملہ اصل مشکل کا سبب بنا ہؤاہے۔ کابل حکومت نے ان دونوں امور پر افغان علاقوں سے پاکستان پر حملے کرنے میں ملوث عناصر کو قائل کرنے کی کوئی مثبت کوشش نہیں کی ہے۔ یا پھر ایسے ہے کہ ٹی ٹی پی اب کابل حکومت کے اثرو رسوخ میں نہیں رہی ہے۔ ان تمام صورتوں میں پاکستانی حکومت کے پاس واحد آپشن مکمل آپریشن ہی بنتا ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ کابل حکومت دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پر پناہ نہ دے۔
ہفتہ، 11 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا ٹی ٹی پی مذاکرات کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے