واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے چین، شمالی کوریا اور میانمر پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ 2سرکردہ سیاستدانوں اور ایک کمپنی کو چینی صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر یہ سزا دی گئی ہے۔ ایغور مسلمانوں کے نیم خود مختار علاقے سینکیانگ کے موجودہ گورنر اور ان کے پیشرو کے خلاف یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان دونوں افراد کے دور حکومت میں 10 لاکھ سے زیادہ ایغور اور دیگر مسلم اقلیتوں کے ارکان گرفتار کیا گیا۔ دوسری جانب چین ایسے تمام تر الزامات کو سیاسی قرار دے کر مسترد کرتا ہے۔ امریکا نے چین کی مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنی سینس ٹائم گروپ کو سرمایہ کاری کی بلیک لسٹ میں ڈالا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کینیڈا، برطانیہ اور امریکا نے انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزام پر میانمر پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ جب کہ واشنگٹن نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے شمالی کوریا پر نئی پابندیاں لگائی ہیں جب کہ میانمر کی فوج کے تحت چلنے والی کمپنیوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے رابطے پر اقوامِ متحدہ میں شمالی کوریا کے مشن، چین، میانمر اور بنگلادیش کے واشنگٹن میں سفارت خانوں نے تاحال اس امریکی اقدام پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس پابندی کے تحت اس کمپنی میں امریکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے پر پابندی ہو گی۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق کے گروپوں کے اندازے کے مطابق 10 لاکھ کے قریب افراد کو سنکیانگ میں حراست میں رکھا گیا ہے۔ امریکا اور دوسرے انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ بیجنگ وہاں نسل کشی کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے سینٹرل پبلک پراسیکیوٹر آفس، سابق سوشل سیکورٹی کے وزیر اور حال ہی میں تعینات کردہ پیپلز آرمڈ فورسز کے وزیر ری یونگ جل پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
